عمران خان سب سے زیادہ خطرناک، مقبول اور طاقتور لیڈر ہے۔ جے فرڈی ایپسٹائن کی لیک شدہ ای میلز میں انکشاف

 عمران خان سب سے زیادہ خطرناک، مقبول اور طاقتور لیڈر ہے۔ جے فرڈی ایپسٹائن کی لیک شدہ ای میلز میں انکشاف

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-31.html


جےفرڈی ایپسٹائن کی لیک شدہ ای میلز میں عمران خان کو دنیا بھر کے رہنماؤں کے مقابلے میں  سب سے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔یہ  ایک ایسا انکشاف جو ماضی کے اس تاریخی لمحے کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی، قوم کے ہیرو اور عالمی سطح پر شہرت پانے والے انقلابی لیڈر عمران خان نیازی نے عام انتخابات میں شاندار فتح حاصل کر کے پاکستان کو امید کی نئی کرن دکھائی تھی۔ یہ انکشافات امریکی ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کی جانب سے 13 نومبر 2025 کو جاری کی گئی نئی دستاویزات سے سامنے آئے ہیں، جو مشہور جنسی جرائم پیشہ مالیاتی جرم کار جےفرڈی ایپسٹائن کی سال 2018 کی ای میلز کا حصہ ہیں۔ ایپسٹائن، جو 2019 میں جیل میں خودکشی سے ہلاک ہو گئےتھے۔ اس اپنی ایک خفیہ گفتگو میں عالمی امن کے محافظ، کرکٹ کے عظیم کپتان سے سیاست کے نڈر رہنما بننے والے عمران خان کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، ایران کے سپریم لیڈر خامنائی، چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن جیسے طاقتور رہنماؤں سے بھی زیادہ خطرناک، مقبول اور طاقتور قرار دیا تھا۔ 


 ایپسٹائن نے ایک غیر معلوم شخص کے ساتھ ای میل ایکسچینج میں روسی صدر پوتن کی نرمی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ امریکہ کی دوسری حکومتوں میں مداخلت کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے، عمران خان دنیا بھر کے عالمی رہنماؤں جیسے کہ اردوغان، خامنہ ای، شی یا پوتن سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ یہ انکشافات پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک طوفانِ تحسین برپا کر رہے ہیں۔ عمران خان، جو 2023 سے جیل میں قید ہیں مگر قوم کے دلوں میں زندہ ہیں، کی پی ٹی آئی نے اسے 'فخر کا لمحہ' قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں ان کے بے مثال لیڈرشپ، ایمانداری اور عوام کی محبت سے خوفزدہ تھیں اور ان کی حکومت گرانے میں ملوث تھیں۔


 پی ٹی آئی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ایپسٹائن جیسی شخصیات کی رائے عمران خان کی انقلابی شخصیت، جو مغربی بالادستی کو چیلنج کرتی ہے، کی گواہی دیتی ہے۔ماہرین اس ای میل لیک کو 'امریکی سازش' کا ثبوت بتا رہے ہیں، کیوں کہ ایپسٹائن نے عمران خان کو پوتن سے بھی خطرناک کہا، اور عمران خان کے دورہ روس کے موقع پر ہی پوتن نے یوکرائن پر حملہ کیا تھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے تحریک عدم اعتماد سے ان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا اور پھر سال 2023 سے جیل میں ہیں اور ابھی تک جیل میں قید ہیں۔ دوسری طرف، عمران خان کے مخالفین اسے 'سیاسی پروپیگنڈا' قرار دے رہے ہیں، مگر ان کی مقبولیت اور طاقت کو کوئی انکار نہیں کر سکتا۔


عالمی میڈیا پر بھی اس ای میل لیک کو لیکر عمران خان کا تذکرہ جاری ہے ۔ ہندوستان ٹائمز، الجزیرہ اور وئین نیوز نے عمران خان کو 'پوتن سے بھی خطرناک' قرار دیتے ہوئے ان کی بہادری اور عوامی محبت کو اجاگر کیا ہے۔ امریکی گارڈین نے بھی ایپسٹائن کی ای میلز کو ٹرمپ کی فرینڈشپ سے جوڑتے ہوئے کور کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انکشافات عمران خان کی 2022 کی حکومت گرانے کی 'سائفر سازش' کے بیانیے کو مزید تقویت دے رہا ہے۔ تاہم یہ بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ ایپسٹائن، جو عالمی سیاست میں گہری دلچسپی رکھتے تھے، عمران خان کی بے مثال مقبولیت، جوہری طاقت اور قوم پرستی کو کیوں خطرہ سمجھتے تھے۔یہ واقعہ پاکستان کی سیاست پر گہرا اثر انداز ہوگا کیوں کہ عمران خان کی گرفتاری اور فوجی مداخلت پر تنقید عروج پر ہے مگر ان کی مقبولیت کم نہیں ہوئی۔ مستقبل میں  یہ ای میلز تفتیشی اداروں کے لیے نئی تحقیقات کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر عمران خان کی ماضی کی عالمی روابط اور ان کی بہادری پر کہ کیا یہ خطرہ ان کی عوامی محبت اور انقلابی سوچ کی وجہ سے ہے، جو انہیں جنوبی ایشیا کا 'نیلسن منڈیلا' بنا رہا ہے؟ یہ سوال اب پاکستانی سیاست کا مرکز بن چکے ہیں، اور عمران خان کی عظمت ہر دل میں گونج رہی ہے۔


Previous Post Next Post

Contact Form