‏عمران خان اور بشری بی بی سے ملاقات اور انکی رہائی کے لیے پی ٹی آئی نے 2 دسمبر کو احتجاج کا اعلان کردیا

 ‏عمران خان اور بشری بی بی سے ملاقات اور انکی رہائی کے لیے پی ٹی آئی نے 2 دسمبر کو احتجاج کا اعلان کردیا

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-45.html



پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے اور ان کی فوری رہائی کے مطالبے پر 2 دسمبر 2025 کو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جمعہ کو کیا، جمعرات کو  پی ٹی آئی اراکین نے وزیر اعلی کے پی کے  سہیل آفریدی کی قیادت میں عمران خان کو اڈیالہ جیل میں مکمل تنہائی میں رکھنے کی مبینہ سازش پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔



 سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر 2 دسمبر تک عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو ہم پرامن طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے اڈیالہ جیل تک مارچ کریں گے۔ انہوں نے تمام پارلیمنٹیرینز، وکلاء، کارکنوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس آئینی حق کی جنگ میں شریک ہوں۔پی ٹی آئی کے مطابق 27 اکتوبر 2025 سے عمران خان کو مکمل طور پر تنہا کر دیا گیا ہے نہ تو خاندان کے افراد، نہ وکلاء اور نہ ہی پارٹی قیادت کو ان سے ملنے دیا جا رہا ہے۔ بشریٰ بی بی کو بھی جیل میں اسی طرح کی پابندیوں کا سامنا ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل دس اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے حق اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت پر بھی سنگین خطرات لاحق ہیں کیونکہ انہیں ضروری طبی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔



 پارٹی ترجمان  نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ تنہائی کی سزا جیل مینوئل کے تحت بھی ناجائز ہے اور عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔سینیٹ اجلاس میں پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے پلے کارڈز اٹھا کر اور نعرے لگا کر ایوان کا اجلاس کئی بار روکا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کئی بار کارروائی ملتوی کی۔ دوسری طرف حکومتی اراکین نے پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ پارلیمنٹ کو یرغمال بنا رہی ہے اور 2 دسمبر کو قانون ہاتھ میں لینے کی دھمکی دے رہی ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے قوانین سب پر یکساں ہوتے ہیں، کوئی استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ دیگر قیدیوں کو ہفتے میں دو سے تین ملاقاتیں ہوتی ہیں جبکہ عمران خان کو ایک ماہ سے زائد عرصے سے مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔



سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج اگر بڑے پیمانے پر ہوا تو ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ آ سکتا ہے۔ پی ٹی آئی نے پہلے ہی اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے رابطے تیز کر دیے ہیں اور مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت سمیت کئی جماعتیں اس احتجاج کی حمایت کر رہی ہیں۔ دوسری طرف حکومت نے اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کرنے اور اضافی پولیس فورس تعینات کرنے کے اشارے دے دیے ہیں۔2 دسمبر کا احتجاج نہ صرف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کا مطالبہ ہے بلکہ پی ٹی آئی کے لیے یہ اپنی سیاسی بقا کی جنگ بھی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک کا کہنا ہے کہ ہمیں کہا جارہا ہے کہ جب تک نوٹیفکیشن نہیں ہوتا ملاقات نہیں کرنے دے، آنے والے چند دن پاکستان کی سیاست کے لیے نہایت اہم ہونے جا رہے ہیں۔

Previous Post Next Post

Contact Form