خیبر امن جرگہ: قبائلی عمائدین اور نوجوانوں کا مطالبہ، ریاست سے پائیدار امن اور ترقی کی ضمانت
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا عزم، "قبائلی عوام کے زخموں پر مرہم رکھیں گے، انہیں گلے لگائیں گے" ٫ تمام قبائل کے مشران نے ریاست سے مطالبات پیش کیے، نئے ملٹری آپریشنز کا سختی سے انکار، این ایف سی میٹنگ اور بقایاجات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ
آج (25 اکتوبر 2025) کو خیبر ضلع کے باڑہ تحصیل میں منعقدہ تاریخی "خیبر امن جرگہ" میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، پارٹی قائدین، تمام قبائل کے عمائدین، مشران اور نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی۔ جرگہ کا مقصد قبائلی اضلاع میں پائیدار امن قائم کرنا اور انضمام کے وعدوں کی تکمیل تھا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا: "اگر قبائلی اضلاع میں امن قائم ہوگا تو پورے پاکستان میں امن، ترقی اور خوشحالی آئے گی۔
قبائلی عوام نے ہمیشہ پاکستان کی خاطر عظیم قربانیاں دی ہیں، اور اب وقت آگیا ہے کہ ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے، انہیں گلے سے لگایا جائے، اور ان کے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔" جرگہ میں تمام شرکاء نے ان مطالبات کی توثیق کی اور ریاستِ پاکستان سے فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
یہ جرگہ 19 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا، جو پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے اجلاس میں طے پایا۔ جرگہ میں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر قبائلی رہنماؤں، نوجوانوں اور پارٹی لیڈرز نے شرکت کی۔ یہ قبائلی اضلاع کی سیکورٹی، ترقی اور سیاسی شمولیت کے لیے ایک متحدہ آواز ثابت ہوا۔
وزیراعلی سہیل آفریدی نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "دنیا کی کوئی طاقت مجھے خرید نہیں سکتی اور نہ دبا سکتی ہے"۔ انہوں نے عمران خان سے وفاداری کا اعادہ کیا اور قبائلی حقوق کی جنگ لڑنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم پرامن لوگ ہیں، ہمیں امن سے جینے دو"۔
جرگہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جو قبائلی روایات کے مطابق منعقد ہوا۔ مینا خان آفریدی نے بھی جرگہ
کی حمایت کی اور کہا کہ یہ قبائلی مسائل کا حل ہے۔
جرگہ میں پیش کیے گئے مطالبات، نئے ملٹری آپریشنز کا مکمل انکار؛ قبائلی عوام اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو تسلیم کریں ،کولیٹرل ڈیمیج کا خاتمہ معصوم شہریوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔
صوبائی مستقبل کے فیصلوں میں مشران، عمائدین اور پارلیمنٹیرینز کی شمولیت؛ بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں۔
انضمام کے وعدوں کی فوری تکمیل اور بقایاجات کی ادائیگی۔
