معمر قذافی کا "افریقی گولڈ دینار" منصوبہ، سونے کی کھدائی یا نیٹو کی چوری
قذافی کے 144 ٹن سونے اور ایک سو پچاس (150)ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر کا پراسرار غائب ہونا: مغربی مداخلت کی حقیقت یا سازش؟ افریقہ کی مشترکہ کرنسی کا خواب، جو نیٹو کی بمباریوں میں دفن ہو گیا ٫ 14 سال بعد بھی کوئی سراغ نہیں ۔
لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کا 2011 میں قتل ہوا، لیکن ان کی موت کی وجوہات آج بھی متنازع ہیں۔ ایک سو چوالیس ٹن سونا، جو افریقی مشترکہ کرنسی "گولڈ دینار" کی بنیاد بنانے کے لیے جمع کیا گیا تھا، اور 150 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ ذخائر کا غائب ہونا ایک وسیع سازشی تھیوری کا حصہ ہیں۔ یہ دعویٰ ہے کہ نیٹو (خاص طور پر فرانس اور امریکہ) نے "جمہوریت کے فروغ" اور "تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں" کے بہانے مداخلت کی، لیکن اصل مقصد قذافی کے مالیاتی انقلاب کو روکنا تھا۔ کیا یہ سچ ہے؟
آئیے حقائق اور الزامات کا جائزہ لیں۔کیا کہتے ہیں حقائق اور الزامات؟
قذافی نے واقعی افریقہ کو ڈالر اور یورو کی غلامی سے آزاد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ سال2009 میں، افریقی یونین کے سربراہ کے طور پر، انہوں نے "گولڈ دینار" کی تجویز دی، ایک سونے پر مبنی کرنسی جو افریقی تیل کی تجارت کے لیے استعمال ہوتی۔ اس سے فرانس کی سی ایف اے فرانک (جو افریقہ کے 14 ممالک میں چلتی ہے) اور ڈالر کی اجارہ داری ختم ہو جاتی۔ ہلری کلنٹن کے سال2016 میں لیک ہونے والے ای میلز میں یہ بات واضح ہوئی کہ فرانسیسی انٹیلی جنس کو قذافی کے 143 ٹن سونے اور اتنی ہی مقدار کے چاندی کے بارے میں معلوم ہوا، جو "پین-افریقی کرنسی" کی بنیاد بننے والے تھے۔ یہ سونا لیبیا کی مرکزی بینک میں تھا، جو سو فیصد سرکاری ملکیت تھی، اور اس کی مالیت تقریباً 70 ارب ڈالر تھی
سال2011 کی نیٹو مداخلت کے دوران، تقریباً بیس سونا (تقریباً 29 ٹن) غائب ہو گیا۔ کچھ دعوے کہتے ہیں کہ قذافی نے اسے بیچ دیا تاکہ باغیوں سے مقابلہ کریں، جبکہ دوسرے الزام لگاتے ہیں کہ نیٹو نے اسے چوری کیا۔
آج تک، نہ تو یہ سونا ملا اور نہ ہی اس کا سراغ ، روس کے سینیٹر الیکسی پشکوف نے سال2025 میں کہا کہ "یہ نیٹو نے چوری کیا"۔ لیبیا نے سال 2023 میں 30 ٹن نیا سونا خریدا، جس سے ذخائر ایک سو چھیالیس ٹن ہو گئے، لیکن سال 2011 کا حصہ اب بھی غائب ہے۔
زرمبادلہ ذخائر کی منتق قذافی دور میں لیبیا کے پاس ایک سو پچاس ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ تھے، جو مغربی بینکوں میں منجمد ہو گئے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد سال1973 کے تحت یہ فریز ہوئے، لیکن مداخلت کے بعد بڑا حصہ "غائب" ہو گیا۔ آئی ایم ایف کے مطابق،سال 2023 تک ایک باون (152) ارب ڈالرز کے اثاثے منجمد ہیں، جن میں سے کچھ اب بھی لیبیا کو واپس نہیں ملے۔
کچھ رپورٹس کہتی ہیں کہ یہ "جمہوریت کی بحالی" کے نام پر منتقل ہوئے، لیکن آج تک ان کا استعمال یا سراغ نامعلوم ہے۔
لیبیا آج تک خانہ جنگی کا شکار ہے، جہاں داعش اور القاعدہ جیسے گروہ فعال ہیں جو قذافی دور میں ناممکن تھا۔
یہ کہانی صرف لیبیا کی نہیں، بلکہ افریقہ کی مالیاتی آزادی کی ہے۔ قذافی کا خواب ، سونے پر مبنی کرنسی، آج بھی براعظمی (جیسے برکینا فاسو کے صدر ابراہیم تراؤرے) کی تحریکوں میں زندہ ہے۔ اگر یہ سچ ہے، تو یہ مغربی "جمہوریت کی برآمد" کی حقیقت کھولتی ہے: ایک امیر افریقی ملک کو تباہ کر دیا گیا تاکہ ڈالر کی تختہ راج برقرار رہے۔ تاہم، یہ الزامات متنازع ہیں کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ قذافی کا منصوبہ کبھی عملی شکل نہ لیتا۔
