دنیا کی سب سے بڑی دوربین جو کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھائے گی
چلی میں واقع ویرا سی روبن آبزرویٹری میں دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کیمرے کی تنصیب کا عمل تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ اس جدید کیمرے کو نصب کرنے کا مقصد کائنات کی بہترین اور واضح تصاویر حاصل کرنا ہے۔اس کیمرے، جسے لیگیسی سروے آف اسپیس اینڈ ٹائم (LSST) کا نام دیا گیا ہے، کی ساخت عام ڈیجیٹل کیمروں سے ملتی جلتی ہے۔ یہ 189 جدید سینسرز پر مشتمل ہے، جو ستاروں اور دیگر خلائی اجسام سے آنے والی روشنی کو جمع کرکے برقی سگنلز میں تبدیل کرتے ہیں۔ ان سگنلز کی مدد سے اعلیٰ معیار کی ڈیجیٹل تصاویر تیار کی جاتی ہیں۔
ہر سینسر کا حجم 16 ملی میٹر ہے اور اس کے پکسلز کسی بھی جدید آئی فون کیمرے سے زیادہ طاقتور ہیں۔یہ 3200 میگا پکسل کا کیمرا اتنا طاقتور ہے کہ 15 میل کی دوری سے گالف کی گیند کی تصویر بھی واضح طور پر لے سکتا ہے۔ اس کا سائز ایک چھوٹی SUV گاڑی کے برابر ہے، جبکہ اس کے لینس کا قطر 1.57 میٹر ہے۔ اس کیمرے سے لی گئی چند تصاویر کی ریزولوشن 3.2 گیگا پکسلز تک ہے، جو اس کی غیر معمولی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔تاہم، یہ کیمرا ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہوا۔
اس کی آخری اپ گریڈیشن اور ایک جدید کولنگ سسٹم کی تنصیب کا عمل جاری ہے تاکہ اس کی کارکردگی کو مزید بہتر کیا جاسکے۔آبزرویٹری کے ترجمان کے مطابق، یہ کیمرا سائنسدانوں کو کائنات کے گہرے رازوں کو کھولنے کے لیے نادر ڈیٹا فراہم کرے گا۔ اس سے نہ صرف ستاروں اور کہکشاؤں کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوں گی بلکہ کائنات کی تشکیل و ارتقا کے بارے میں بھی اہم انکشافات ممکن ہوں گے۔یہ ٹیکنالوجی خلائی تحقیق میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہے، جو انسانیت کو کائنات کے عظیم اسرار کو سمجھنے کے ایک قدم اور قریب لے جائے گی۔
اس کیمرے سےجون 2025 میں پہلی سائنسی تصاویر جاری کی گئیں، جن میں ٹریفڈ اور لیگون نیبولا کی کمپوزیٹ تصاویر اور ورگو کلسٹر کے منظر شامل تھے۔ یہ تصاویر صرف 10 گھنٹوں کی مشاہدے میں اربوں کہکشاؤں، ستاروں اور ہزاروں ایسٹرائیڈز کو پکڑتی ہیں۔ اب، جنوری 2026 سے مکمل 10 سالہ سروے شروع ہونے جا رہا ہے، حالانکہ کوویڈ کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوئی۔ کمیشننگ ٹیسٹنگ ستمبر 2025 میں ختم ہوئی اور اکتوبر میں دوبارہ شروع ہوئی، جبکہ سسٹم انٹیگریشن اور ڈیٹا کنیکٹیویٹی چیکس
جاری ہیں۔
یہ کیمرا 10 سال میں جنوبی آسمان کے 18,000 مربع ڈگری کا سروے کرے گا، جس سے 20 بلین کہکشائیں، 17 بلین ستارے اور 6 ملین چھوٹے شمسی نظام اجسام کی نشاندہی ہوگی۔ اس پروجیکٹ کی لاگت 680 ملین ڈالر ہے۔
ویرا سی روبن آبزرویٹری، جو مشہور فلکیات دان ویرا روبن کی یاد میں نامزد ہے، خلائی تحقیق میں ایک نئی صبح کا اعلان کر رہی ہے۔ یہ کیمرا انسانیت کو کائنات کے عظیم رازوں سے قریب تر لے جائے گا، اور مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک خزانہ چھوڑ جائے گا۔
-min.png)