غزہ پر اسرائیلی حملوں میں بچوں اور خواتین سمیت ایک سو چار فلسطینی شہید، ٹرمپ کی اسرائیل کی حمایت کا اعلان
غزہ پٹی میں منگل کی رات (28 اکتوبر 2025) کو کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 104 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 46 بچے اور 20 خواتین شامل ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت اور سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق، یہ حملے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں، جسے امریکہ کی ثالثی میں 10 اکتوبر کو طے پایا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے حماس پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے 'طاقتور حملوں کا حکم دیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'اسرائیل کو جوابی کارروائی کا حق ہے۔ ان حملوں میں غزہ کی رہائشی عمارتوں، کیمپوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا،جس میں 200 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے شمالی غزہ کے بیت لاحیا، مرکزی غزہ کے دیر البلاح اور جنوبی خان یونس میں متعدد مقامات پر حملے کیے۔ ان میں ایک کینسر مریضوں کا کیمپ 'انسان کیمپ' بھی شامل ہے، جہاں خواتین اور بچوں کی شہادتیں زیادہ ہوئیں۔ آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ 30 سے زائد حماس کمانڈروں اور دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ فلسطینی حکام اسے شہریوں پر قتل عام قرار دے رہے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، الشفا ہسپتال، ناصر ہسپتال اور الاقصیٰ ہسپتال میں لاشوں کی تعداد 104 ہو گئی۔ ان میں 46 بچے، 20 خواتین اور متعدد بزرگ شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی، جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔ حملے ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے، جسے حماس نے غلطی قرار دیا۔ اسرائیل نے حماس پر یرغمالوں کی لاشوں کی واپسی میں تاخیر اور جعلی دریافت کا الزام لگایا۔ حماس نے جواب میں کہا کہ تباہی کی وجہ سے لاشیں برآمد کرنا مشکل ہے اور اسرائیل معاہدے کو توڑ رہا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے حملوں کی حمایت کیں جبکہ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے تشویش کا اظہار کیا اور امداد کی ضرورت پر زور دیا۔پاکستان نے حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
-min.png)