ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر اہم ترین اعلان
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے آج ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ترکیہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اگلے ہفتے اسلام آباد کا دورہ کرے گا تاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری شدید کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری مذاکرات کیے جائیں۔ اس وفد کی قیادت وزیر خارجہ حکان فیدان کریں گے جبکہ وزیر دفاع یشار گولر اور قومی انٹیلی جنس ایجنسی (ایم آئی ٹی) کے سربراہ ابراہیم قالن بھی شامل ہوں گے۔
صدر اردوان نے آذربائیجان کے سرکاری دورے سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استنبول میں گزشتہ ہفتے ہونے والے پاک افغان مذاکرات تو ناکام ہو گئے، مگر ترکیہ اپنا ثالثی کردار ہرگز نہیں چھوڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان اور افغانستان دونوں کو یقین دلایا ہے کہ ترکیہ خطے کے امن کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا، چاہے استنبول میں بات نہ بن سکی ہو، اب اسلام آباد میں بنے گی۔ یہ دورہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ پہلی بار ترکیہ کے تینوں اہم ستونِ طاقت یعنی خارجہ پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور انٹیلی جنس ایک ساتھ پاکستان آ رہے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انقرہ اس معاملے کو کتنی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
پس منظر یہ ہے کہ دوحہ میں قطر کی ثالثی سے مارچ 2025 میں پاک افغان سیز فائر ہوا تھا، مگر استنبول میں ہونے والے فالو اپ مذاکرات میں افغان وفد نے تحریری معاہدے پر دستخط سے انکار کر دیا تھا، جس پر پاکستان نے سخت احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ افغانستان سے ٹی ٹی پی دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ مل رہی ہے۔ پاکستان نے استنبول میں پانچ سو سے زائد حملوں کے ثبوت پیش کیے، جن میں بارہ سو سے زیادہ شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، مگر طالبان حکام نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ اب ترکیہ نے خود پہل کی ہے اور اسلام آباد میں نہ صرف سیز فائر کی نگرانی کا مستقل میکانزم قائم کرنے بلکہ ٹی ٹی پی کے خلاف مشترکہ آپریشنز، سرحدی فورسز کے درمیان رابطہ افسران کی تعیناتی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے فارمولے پر بات ہو گی۔
ذرائع کے مطابق ترک وفد پاکستانی قیادت سے ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کرے گا۔ حکان فیدان اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے جس میں اعلان کیا جائے گا کہ ترکیہ اب پاک افغان سرحد پر "ثالثی مشن" قائم کر رہا ہے جس کے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد اور کابل دونوں میں ہوں گے۔ یشار گولر پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ساتھ دفاعی تعاون کے نئے معاہدے پر بھی بات کریں گے جس میں ترکش ڈرونز، سائبر سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ ٹریننگ شامل ہو گی۔ ابراہیم قالن پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ خفیہ اجلاسوں میں ٹی ٹی پی کے مالی ذرائع اور افغانستان میں ان کی پناہ گاہوں کے بارے میں
نئی معلومات شیئر کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکیہ کی یہ ثالثی کامیاب ہوئی تو نہ صرف پاک افغان تعلقات معمول پر آ جائیں گے بلکہ خطے میں داعش خراسان اور القاعدہ جیسی بڑی دہشت گرد تنظیموں کو بھی شدید دھچکا لگے گا۔ دوسری طرف اگر یہ کوشش بھی ناکام ہوئی تو سرحد پر فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ جائے گا جس سے پوری وسطی ایشیا کی سکیورٹی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ترکیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس بار تحریری معاہدہ اور قابلِ عمل ٹائم لائن کے بغیر واپس نہیں لوٹے گا، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری بھی اس دورے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
-min.png)