ڈی این اے کی ڈبل ہیلیکس ساخت دریافت کرنے والے نوبل انعام یافتہ جیمس واٹسن 97 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

 ڈی این اے کی ڈبل ہیلیکس ساخت دریافت کرنے والے نوبل انعام یافتہ جیمس واٹسن 97 سال کی عمر میں انتقال کر گئے 

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-16.html


جیمس واٹسن جو ڈی این اے کی ڈبل ہیلیکس ساخت کی مشترکہ دریافت کے لیے 1962 میں نوبل انعام حاصل کر چکے تھے، 97 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی موت کی تصدیق کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری نے کی، جہاں وہ کئی دہائیوں تک کام کرتے رہے۔ واٹسن کی موت 6 نومبر 2025 کو نیویارک کے ایک ہاسپائس میں مختصر بیماری کے بعد ہوئی۔ ان کی 1953 کی دریافت نے جینیٹکس، میڈیسن، کرائم انویسٹی گیشن اور جینالوجی کو انقلاب دے دیا۔ 

 صرف 25 سال کی عمر میں جیمس واٹسن نے فرانسس کرک کے ساتھ مل کر ڈی این اے کی ڈبل ہیلیکس ساخت دریافت کی۔ یہ دریافت روزالینڈ فرینکلن کی ایکس رے تصاویر اور مورس ولکنز کے کام پر مبنی تھی۔ 1962 میں واٹسن، کرک اور ولکنز کو نوبل انعام ملا۔ یہ دریافت "زندگی کا راز" کہلائی اور انسانی جینوم پروجیکٹ کی بنیاد بنی۔ 

  واٹسن 6 اپریل 1928 کو شکاگو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری کو عالمی شہرت دلائی اور کتابیں لکھیں جیسے "دی ڈبل ہیلیکس" ۔

 وہ انسانی جینوم پروجیکٹ کے سربراہ بھی رہے، بعد کی زندگی میں واٹسن کے نسل پرستی اور جنس سے متعلق بیانات کی وجہ سے تنازع ہوا۔ 2007 میں انہوں نے افریقیوں کی ذہانت پر متنازع تبصرہ کیا، جس پر انہیں لیبارٹری سے استعفیٰ دینا پڑا۔ 2014 میں نوبل میڈل نیلام کیا مگر واپس مل گیا۔ مختصر بیماری کے بعد ہاسپائس میں انتقال کر گئے۔ 

جیمس واٹسن کی دریافت نے ڈی این اے ٹیسٹنگ، جین تھراپی، کرائم سولوینگ اور کینسر ٹریٹمنٹ کو ممکن بنایا۔ ان کی موت سائنس کی دنیا میں ایک دور کے خاتمے کی علامت ہے، لیکن ان کے متنازع بیانات نے ان کی میراث کو پیچیدہ بنا دیا۔ واٹسن نے کہا تھا: "ہم نے صدی کی دریافت کی تھی۔"


Previous Post Next Post

Contact Form