وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی مرکزی حکومت کی جانب سے صوبے پر مسلط کی جانے والی پالیسیوں کے خلاف کھل کر مزاحمت

 وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی  کی مرکزی حکومت   کی  جانب سے صوبے پر مسلط کی جانے والی پالیسیوں کے خلاف کھل کر مزاحمت

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-23.html

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مرکزی حکومت کی جانب سے صوبے پر مسلط کی جانے والی پالیسیوں کے خلاف کھل کر مزاحمت کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے آج اپنے بیان میں کہا کہ "خیبرپختونخوا کے حوالے سے اوپر سے 'شاہی فرمان' جاری ہو جاتا ہے کہ یہ پالیسی پختونخوا میں چلے گی اور اس پر عمل شروع ہو جاتا ہے، میں ایسی ہر پالیسی کے خلاف مزاحمت کروں گا، میں عوام کے حق کیلئے مزاحمت کروں گا"۔ سہیل آفریدی کا یہ موقف صوبائی خودمختاری، 27ویں ترمیم کے نفاذ اور وفاقی اور صوبائی تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بیان محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کی عوام کی آواز بن چکا ہے جو برسوں سے وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے یکطرفہ نفاذ سے تنگ ہیں۔ حالیہ مہینوں میں وفاقی سطح پر کئی فیصلے جیسے ٹیکس اصلاحات، سیکیورٹی آپریشنز، ترقیاتی فنڈز کی تقسیم اور توانائی کے منصوبوں میں صوبائی مشاورت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ اب صوبہ اپنے حقوق کے لیے خاموش نہیں رہے گا اور ہر اس پالیسی کی مزاحمت کی جائے گی جو مقامی ضروریات، ثقافتی اقدار اور عوامی مفادات سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کی سالمیت کے لیے قربانیاں دی ہیں، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے حقوق بھی تسلیم کیے جائیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان وفاقی اتحادی حکومت اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ سہیل آفریدی، جو ایک نوجوان اور متحرک رہنما ہیں، پہلے بھی تعلیم، صحت، سیکیورٹی اور نوجوانوں کی روزگار سکیموں پر زور دیتے رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں خیبرپختونخوا نے کئی عوام دوست منصوبے شروع کیے ہیں جن میں مقامی وسائل کا بہتر استعمال اور صوبائی خود مختاری پر توجہ شامل ہے۔ یہ بیان نہ صرف صوبائی حکومت کا سرکاری موقف ہے بلکہ عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کا بھی ترجمان ہے جو وفاقی مداخلت سے تنگ آ چکے ہیں۔یہ اعلان ایک نئے سیاسی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے جہاں صوبائی رہنما کھل کر وفاقی پالیسیوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ مزاحمت کا مطلب انتشار نہیں بلکہ آئینی حقوق کا تحفظ ہے۔

 وہ عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ عوام ان کے ساتھ کھڑی ہوں تاکہ خیبرپختونخوا کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ بیان نہ صرف صوبائی سیاست بلکہ قومی سطح پر بھی بحث چھیڑ سکتا ہے کہ کیا وفاقی ڈھانچہ اب بھی صوبوں کی ضروریات پوری کر سکتا ہے یا نہیں؟




Previous Post Next Post

Contact Form