جسٹس امین الدین آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس مقرر، تقریب حلف برداری کل ایوان صدر میں ہوگی

 جسٹس امین الدین آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس مقرر، تقریب حلف برداری کل ایوان صدر میں ہوگی

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-29.html


پاکستان کی عدلیہ میں ایک تاریخی موڑ آ گیا ہے جب صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی باہمی مشاورت کے بعد سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس امین الدین خان کو ملک کی پہلی وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا۔ یہ تقرری 13 نومبر 2025 کو عمل میں لائی گئی اور کل چودہ نومبر کو صبح دس بجے ایوان صدر اسلام آباد میں   تقریب حلف برداری ہوگی۔ وفاقی آئینی عدالت کا قیام ستائسویں آئینی ترمیم کا براہ راست نتیجہ ہے جو حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور ہوئی اور اس نے سپریم کورٹ کے آئینی مقدمات کو الگ عدالت میں منتقل کرنے کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔ اس ترمیم کے تحت ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سے بڑھا کر 68 سال کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے جسٹس امین الدین خان، جو تیس نومبر 2025 کو ریٹائر ہونے والے تھے، اب مزید تین سال تک خدمات انجام دے سکیں گے۔ یہ تقرری نہ صرف عدالتی ڈھانچے میں ایک نئی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ آئینی معاملات کی سماعت کو زیادہ منظم اور موثر بنانے کی کوشش بھی ہے۔جسٹس امین الدین خان اس وقت سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کے سربراہ ہیں اور ان کی قانونی مہارت، غیر جانبداری اور پیچیدہ مقدمات میں فیصلوں کی شہرت انہیں اس عہدے کے لیے موزوں امیدوار بناتی ہے۔ ذرائع کے مطابق تقرری کے عمل میں کئی سینئر ججز کے نام زیر غور آئے جن میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس باقر نجفی بھی شامل تھے لیکن بالآخر حکومت اور عدلیہ کے اعلیٰ حلقوں میں اتفاق رائے سے جسٹس امین الدین خان کا انتخاب ہوا۔ حلف برداری کی تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان، دیگر سپریم کورٹ ججز، ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز، وکلا کی نمائندہ تنظیمیں، سینیئر وفاقی وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران شرکت کریں گے۔ 

دعوت نامے تمام متعلقہ فریقین کو جاری کیے جا چکے ہیں اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ستائیسویں آئینی ترمیم نے عدالتی نظام میں کئی اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ اس کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو آئینی تنازعات، بنیادی حقوق کے مقدمات اور وفاقی قوانین کی آئینی حیثیت سے متعلق کیسز کی سماعت کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان کو تاحیات مراعات اور وردی پہننے کا حق دیا گیا ہے جو ایک غیر معمولی اقدام سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اس ترمیم پر شدید تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے ترمیم کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا موقف ہے کہ یہ ترمیم سپریم کورٹ کی طاقت کو کمزور کرتی ہے اور حکومت کو عدالتی امور میں مداخلت کا موقع دیتی ہے۔

 قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ عدالت چھبیسویں اور ستائیسویں ترامیم سے متعلق مقدمات کی سماعت کرے گی جو اس کی آزمائش کا پہلا مرحلہ ہوگا۔یہ تقرری پاکستان کے عدالتی ڈھانچے میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے توقع ہے کہ آئینی مقدمات کی سماعت تیز تر اور زیادہ شفاف ہوگی۔ سپریم کورٹ اب عمومی اپیلوں، دیوانی اور فوجداری مقدمات پر توجہ مرکوز کر سکے گی جبکہ آئینی عدالت بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم عدلیہ کو مضبوط بنانے اور عوام کو فوری انصاف فراہم کرنے کی طرف اٹھایا گیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں اور وکلا برادری کا ایک بڑا حصہ اسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ سمجھتا ہے۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ یہ تبدیلی عدالتی نظام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے یا نئی پیچیدگیاں جنم دیتی ہے۔ فی الحال تمام نظریں کل کی حلف برداری پر مرکوز ہیں جہاں جسٹس امین الدین خان بطور چیف جسٹس اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک نیا باب لکھا جائے گا۔


Previous Post Next Post

Contact Form