اڈیالہ جیل کے باہر سیاسی حرارت میں اضافہ، پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس کے درمیان شدید تصادم

 اڈیالہ جیل کے باہر سیاسی حرارت میں اضافہ، پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس کے درمیان شدید تصادم

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-41.html



راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر آج پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ہزاروں کارکنوں، اراکینِ اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز اور وکلاء نے زبردست احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے۔ عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین خان کی قیادت میں یہ مظاہرہ اس وقت شروع ہوا جب جیل انتظامیہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان سے خاندان کی ہفتہ وار ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ علیمہ خان نے جیل گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا کہ ہم آج ملاقات کے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے، اگر پولیس نے کریک ڈاؤن کیا تو ہم سب گرفتاریاں دیں گے۔ یہ ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے ہفتے 19 نومبر کو بھی انہیں اور ان کی بہنوں کو دس گھنٹے دھرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی تھی، لیکن آج وہ کسی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹیں گی۔احتجاج کا منظر انتہائی پرجوش ہے۔ جیل کے مرکزی دروازے سے چند سو میٹر کے فاصلے پر قائم اسٹیج پر پی ٹی آئی رہنما خطاب کر رہے ہیں جبکہ کارکن "عمران خان زندہ باد"، "آئین توڑنے والے شرم کرو" اور "فاشسٹ حکومت نامنظور" کے نعرے لگا رہے ہیں۔


 پنجاب سے تعلق رکھنے والے متعدد قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین بھی موجود ہیں۔ پارٹی کی طرف سے پہلے ہی ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ ہر ٹکٹ ہولڈر کم از کم چار کارکنوں کو ساتھ لے کر جیل پہنچے۔ نتیجتاً صبح سے ہی کارکنوں کے قافلے مختلف شہروں سے آتے رہے۔ خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جو سفید دوپٹے اور پرچم لہرا رہی ہیں۔یہ احتجاج محض ملاقات کا معاملہ نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے بقول "آئین پر مسلسل حملوں" کے خلاف ایک بڑی تحریک کا حصہ ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کو ختم کیا جا رہا ہے اور عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ جیل انتظامیہ عدالت کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے، جیل مینوئل کے تحت خاندان کو ہفتے میں ایک بار ملاقات کا حق حاصل ہے، لیکن ایک سال سے زائد عرصے سے یہ سلسلہ مسلسل روکا جا رہا ہے۔انہوں نے پچھلے تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بوڑھی بہنوں کو بھی گھسیٹا گیا، وکلاء کو مارا گیا، لیکن آج وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گی۔


دوسری طرف جیل انتظامیہ نے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا، البتہ غیر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ملاقات روکی گئی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی اس موقف کو مسترد کر رہی ہے، موجودہ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، راولپنڈی سے اسلام آباد جانے والی تمام شاہراہیں بند ہیں اور شہر بھر میں موبائل سگنلز بھی متاثر ہیں۔ اگر ملاقات کی اجازت نہ ملی تو پی ٹی آئی نے ملک بھر میں احتجاج پھیلانے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید گہرا کر سکتا ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں صورتحال کسی بھی طرف جا سکتی ہے۔
Previous Post Next Post

Contact Form