کراچی بی آر ٹی آٹھ سال گزرنے کے باوجود نا مکمل جبکہ پشاور بی آر ٹی مکمل ہونے کے بعد عالمی سطح پر پانچ ایورڈ بھی اپنے نام کر چکا ہے
پاکستان کے دو بڑے شہروں میں شروع کیے گئے تیز بس نظام (بی آر ٹی) کے منصوبوں کی کہانیاں بالکل مختلف ہیں۔ کراچی کا ریڈ لائن بی آر ٹی، جو یونیورسٹی روڈ سے ملیر ہالٹ تک 27 کلومیٹر کا راستہ بنانا تھا، 2017 میں سندھ حکومت نے شروع کیا تھا۔ اس کی تعمیر 2022 میں شروع ہوئی اور 2023 میں مکمل ہونا تھا، مگر آج نومبر 2025 میں بھی یہ مکمل نہیں ہوا۔ پہلے سال 2024 پھر 2025 اور اب 2026 کی نئی آخری تاریخ دی جا رہی ہے۔ منصوبے کی اصل لاگت تقریباً 70 سے 79 ارب روپے تھی جو اب 103 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس دوران سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اعتراضات، نقشے میں تبدیلیاں، مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی جیسی وجوہات سامنے آئیں۔ یونیورسٹی روڈ برسوں سے کھدائی کی نذر ہے، ٹریفک کا بدترین جمود معمول بن چکا ہے اور لاکھوں شہری روزانہ تکلیف اٹھا رہے ہیں، مگر بڑے میڈیا چینلز میں اس آٹھ سالہ تاخیر اور تیس فیصد سے زائد لاگت کے اضافے پر کوئی بڑا ٹی وی پروگرام یا بحث کا پروگرام نظر نہیں آتا۔
دوسری طرف پشاور کا بی آر ٹی منصوبہ، جسے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے 2017 میں شروع کیا، وہی 27 کلومیٹر لمبائی، تقریباً وہی بجٹ (71 ارب)، مگر یہ 2020 میں مکمل ہو کر چل پڑا۔ آج اسے روزانہ تین لاکھ سے زائد مسافر استعمال کرتے ہیں۔ شروع میں اس پر بھی خوب پروپیگنڈا ہوا، کرپشن کے الزامات لگے، قومی احتساب بیورو کی انکوائریاں ہوئیں، میڈیا نے خوب شور مچایا کہ تاخیر ہو رہی ہے، پیسہ ضائع ہو رہا ہے۔ مگر جب منصوبہ مکمل ہوا تو اسے عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ پشاور بی آر ٹی کو پانچ بڑے عالمی اعزاز مل چکے ہیں: پائیدار نقل و حمل ایوارڈ (2022 اور 2024)، بہترین سمارٹ ٹکٹنگ پروگرام ایوارڈ، گولڈ اسٹینڈرڈ بی آر ٹی کا درجہ، اور نیویارک میں عالمی وسائل ادارے کے شہروں کا انعام مقابلے میں 65 ممالک کے 260 منصوبوں میں سے فائنل میں پہنچ کر 25 ہزار ڈالر کا انعام۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی اسے شفاف قرار دیا۔یہ دونوں منصوبے ایک ہی ملک، ایک ہی دور میں شروع ہوئے، دونوں کی لمبائی اور مسافروں کی تعداد میں مماثلت ہے، مگر نتائج زمین آسمان کا فرق رکھتے ہیں۔
پشاور بی آر ٹی کو سیاسی مخالفین کی وجہ سے میڈیا میں گھسیٹا گیا، جبکہ کراچی کا ریڈ لائن برسوں کی ناکامی کے باوجود میڈیا کی توجہ سے محروم رہا۔ اس کی وجہ صاف نظر آتی ہے کہ ایک منصوبہ تحریک انصاف کا تھا، دوسرا پیپلز پارٹی کا۔ جب سیاسی مفادات بدلتے ہیں تو میڈیا کا لہجہ بھی بدل جاتا ہے۔ کراچی کے شہریوں کو آج بھی یہ پوچھنے کا حق ہے کہ ان کا منصوبہ آٹھ سال سے کیوں لٹکا ہوا ہے؟ 33 ارب روپے کا اضافی بوجھ آخر کس کے اکاؤنٹ میں جائے گا؟ اور میڈیا خاموش کیوں ہے؟حقیقت یہ ہے کہ عوامی منصوبوں کی کامیابی یا ناکامی کو سیاسی رنگ دینا بند ہونا چاہیے۔ پشاور بی آر ٹی سے سبق لیا جا سکتا ہے کہ شفافیت، وقت کی پابندی اور جدید ٹیکنالوجی سے عالمی معیار کا پروجیکٹ بنایا جا سکتا ہے۔ کراچی والوں کو بھی وہی معیار اور وہی رفتار چاہیے، نہ کہ ہر سال نئی آخری تاریخیں اور نیا بجٹ۔ جب تک منصوبوں کو پارٹیوں کی بجائے شہریوں کی ملکیت نہیں سمجھا جائے گا، یہ کہانیاں دہرائی جاتی رہیں گی۔
