سوڈان میں قیامت خیز مناظر، موجودہ صورتحال انتہائی خراب

 سوڈان میں قیامت خیز مناظر، موجودہ صورتحال انتہائی خراب 

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/world-news-2.html



 اپریل ۲۰۲۳ سے سوڈان خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔ سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ  فورسز کے درمیان اقتدار کی ہوس نے ملک کو کھنڈر بنا دیا۔ نومبر ۲۰۲۵ تک یہ تنازعہ ڈھائی برس سے زیادہ کا ہو چکا، لاکھوں جانیں لے چکا اور کروڑوں کو بے آسرا کر چکا۔ اقوام متحدہ کہتی ہے کہ تیس ملین افراد کو فوری امداد چاہیے، جبکہ پچیس ملین شدید بھوک کے پنجے میں ہیں۔

تازہ ترین سانحہ الفاشر شہر کا گرنا ہے۔ ستائیس اکتوبر ۲۰۲۵ کو ریپڈ سپورٹ فورسز نے اکیس ماہ کے محاصرے کے بعد دارفور کے اس آخری فوجی گڑھ پر قبضہ جما لیا۔ قبضے کے بعد انہوں نے ماسالٹ قبیلے کو نسلی بنیاد پر نشانہ بنایا، گھر گھر چھاپے مارے اور اڑتالیس گھنٹوں میں ڈیڑھ سے دو ہزار شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 

اقوام متحدہ نے اسے "وحشتناک قتلِ عام" قرار دیا جو نسل کشی کی حد تک پہنچ چکا۔دارفور کے زمزم، ابو شوک اور السلام کیمپوں میں قحط کا اعلان ہو گیا، آٹھ لاکھ افراد غذائی قلت کی آخری حد پر کھڑے ہیں۔ ملک بھر میں دس اعشاریہ آٹھ ملین لوگ اندرونِ ملک میں بے گھر، تین اعشاریہ پانچ ملین پڑوسی ممالک میں مہاجر طور پر زندگی گزار رہے ہیں ۔

  صحت کا نظام برباد، ہیضہ نے ساٹھ ہزار لوگوں  کو لپیٹ میں لیا، سولہ سو جانیں ہیضہ کی وجہ جاچکی ہیں ۔ تیرہ ملین بچے سکول سے محروم، مستقبل اندھیرے میں ڈوب گیا۔ریپڈ سپورٹ فورسز کو متحدہ عرب امارات، لیبیا اور الجزائر کی پشت پناہی، جبکہ سوڈانی فوج کو مصر اور سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔

 جنوری ۲۰۲۵ میں امریکہ نے ریپڈ سپورٹ  فورسز پر نسل کشی کا الزام لگایا۔ عالمی برادری خاموش، چھ ارب ڈالر کی امداد درکار مگر چند ٹکوں کی فنڈنگ ،سوڈان دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بن چکا ہے۔ فوری جنگ بندی، امداد کی راہداری اور شہریوں کی حفاظت ناگزیر ہوچکی ہے۔ یہ محض سوڈان کا نہیں، انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔


Previous Post Next Post

Contact Form