پی آئی اے جو کسی دور میں نمبر ون ادارہ تھا آج کوڑيوں کے بھاؤ فروخت

 پی آئی اے جو کسی دور میں نمبر ون ادارہ تھا  آج کوڑيوں کے بھاؤ فروخت

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/12/pakistan-news-58.html


پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) جو کبھی ایشیا کی بہترین اور عالمی سطح پر نمبر ون ایئرلائنز میں شمار ہوتی تھی، آج شدید مالی بحرانوں، بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور اربوں روپے کے قرضوں کے بوجھ تلے دب کر نجکاری کے مرحلے پر پہنچ گئی۔آج اسلام آباد میں ایک شفاف بولی کے عمل میں، جو لائیو ٹیلی ویژن پر بھی نشر ہوا، پی آئی اے کے 75 فیصد حصص عارف حبیب گروپ کی قیادت میں قائم ایک کنسورشیم کو 135 ارب روپے میں فروخت کر دیے گئے۔ یہ پاکستان کی تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بڑی نجکاری ہے اور عالمی مالیاتی فنڈ کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کی ایک اہم شرط کی تکمیل بھی ہے ۔


پی آئی اے کی تاریخ بہت شاندار رہی ہے۔ 1950 کی دہائی میں قائم ہونے والی یہ ایئرلائن جلد ہی جدید طیاروں، اعلیٰ معیار کی سروس اور وسیع نیٹ ورک کی بدولت دنیا بھر میں مشہور ہو گئی۔ ایک وقت تھا جب یہ دنیا کی ٹاپ ایئرلائنز میں شامل تھی، لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں سیاسی بنیادوں پر تقرریاں، ملازمین کی زیادہ تعداد، کرپشن اور نااہل انتظامیہ نے اسے بری طرح تباہ کر دیا۔ 2020 میں جعلی پائلٹ لائسنسز کا سکینڈل سامنے آیا، جس کے نتیجے میں یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ نے پاکستان کی پروازوں پر پابندی لگا دی، اور ایئرلائن کی آمدنی شدید متاثر ہوئی۔ اس پر 654 ارب روپے سے زائد کے قرضے تھے، جو حکومت نے نجکاری سے پہلے اپنے ذمے لے لیے۔نجکاری کا عمل کئی سالوں سے زیر بحث تھا۔ 


2024  تین بولی دہندگان میدان میں آئے عارف حبیب کنسورشیم (جس میں عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں)، لکی سیمنٹ گروپ اور ایئر بلیو۔ کھلی بولی میں عارف حبیب نے 135 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی لگا کر کامیابی حاصل کی۔اس معاہدے کے مطابق، 135 ارب میں سے صرف 10.12 ارب روپے حکومت کو نقد ملیں گے، باقی رقم کا 92.5 فیصد حصہ پی آئی اے میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہوگا۔ خریدار کو فوری طور پر 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی، طیاروں کی تعداد بڑھانی ہوگی اور ایئرلائن کو منافع بخش بنانا ہوگا۔


 پی آئی اے کا نام اور قومی ایئرلائن کا درجہ برقرار رہے گا، ملازمین کو ایک سال تک نوکری کی ضمانت دی گئی ہے۔ کامیاب بولی دہندہ کو باقی 25 فیصد حصص 90 دنوں میں خریدنے کا آپشن بھی ملے گا۔بہت سے لوگ اسے کوڑیوں کے مول فروخت کہہ رہے ہیں کیونکہ ایئرلائن کے پاس قیمتی روٹس، لینڈنگ سلاٹس اور دیگر اثاثے موجود ہیں، مگر قرضوں اور مسلسل خساروں کی وجہ سے قیمت کم رہی۔ دوسری طرف حکومت اور سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھی ڈیل ہے جو ایئرلائن کو بحال کرے گی اور ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسے شفاف عمل قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ پی آئی اے دوبارہ اپنی پرانی شان بحال کر لے گی۔ عارف حبیب گروپ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اسے دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شامل کریں گے۔یہ نجکاری پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم موڑ ہے، مگر اس کی کامیابی نئے مالکان کی کارکردگی پر منحصر ہے۔ اگر بحالی ہوئی تو پی آئی اے دوبارہ قومی فخر بن سکتی ہے، ورنہ یہ ایک اور افسوسناک باب ثابت ہوگی۔


Previous Post Next Post

Contact Form