فیلڈ مارشل کو دھمکیوں سے متعلق ڈیمارش پر برطانیہ نے پاکستان سے شواہد مانگ لیے
برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر تیئس دسمبر 2025 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے یو کے کی جانب سے منعقد کردہ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جو چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیں، کو سنگین قسم کی دھمکیاں دی گئیں۔ یہ احتجاج سابق وزیراعظم عمران خان کی حمایت میں کیا گیا تھا اور اس کی ویڈیو پی ٹی آئی یو کے کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی، جس میں ایک خاتون مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کار بم دھماکے کے ذریعے فیلڈ مارشل کو ہلاک کرنے کی بات کر رہی تھیں۔ یہ بیانات سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے طیارہ حادثے سے مشابہت رکھتے تھے، جو شدید تشویش کا باعث بنے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پی ٹی آئی یو کے نے اسے ڈیلیٹ کر دیا اور ایک بیان میں کہا کہ یہ مجازی یا استعاراتی بیانات تھے، جن کا مقصد تشدد کی ترغیب نہیں تھا، بلکہ احتیاطاً ویڈیو ہٹا دی گئی تاکہ کسی غلط فہمی سے بچا جا سکے۔ تاہم، پاکستان کی حکومت نے اسے براہ راست قتل کی دھمکی اور تشدد کی ترغیب قرار دیا۔
اس واقعے پر پاکستان کی وزارت خارجہ نے 26 دسمبر 2025 کو برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر میٹ کینل کو طلب کر کے ایک رسمی ڈیمارش جاری کیا۔ ڈیمارش میں شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور برطانوی سرزمین کو پاکستان کی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے، دہشت گردی کی ترغیب دینے اور اندرونی انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان نے ویڈیو کلپ، اس کی ٹرانسکریپٹ اور دیگر شواہد برطانوی حکام کو فراہم کیے اور ذمہ دار افراد کی شناخت، تفتیش اور سزا کا مطالبہ کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندریبی نے کہا کہ یہ مواد نہ تو سیاسی ہے اور نہ ہی بیان آزادی کا معاملہ، بلکہ یہ کھلے عام قتل کی کال اور تشدد کی ترغیب ہے، جو پاکستان میں انتشار اور ریاستی اداروں سے تصادم کی نیت رکھتا ہے۔
پاکستان نے توقع ظاہر کی کہ برطانیہ اپنے قوانین کے مطابق فوری کارروائی کرے گا اور اپنی سرزمین کو ایسی سرگرمیوں سے پاک رکھے گا۔جواب میں برطانوی ہائی کمیشن نے ایک بیان جاری کیا جس میں واضح کیا گیا کہ برطانیہ میں پولیس اور پراسیکیوشن مکمل طور پر حکومت سے آزاد ہو کر کام کرتے ہیں۔ اگر کسی غیر ملکی حکومت کو شبہ ہے کہ برطانوی سرزمین پر کوئی جرم ہوا ہے تو وہ تمام متعلقہ شواہد اور مواد برطانوی پولیس کے رابطہ افسر کو فراہم کرے۔ پولیس برطانوی قانون کے مطابق مواد کا جائزہ لے گی اور اگر قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو مجرمانہ تفتیش شروع کی جا سکتی ہے۔
تمام معاملات برطانوی قانونی طریقہ کار کے مطابق ہی نمٹائے جائیں گے۔ یہ بیان برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے تصدیق شدہ ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ اس معاملے کو اپنے آزاد اداروں کے ذریعے دیکھے گا، نہ کہ براہ راست حکومتی سطح پر۔یہ واقعہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تناؤ کا باعث بنا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ پی ٹی آئی کے بیرون ملک کارکنوں پر الزام ہے کہ وہ برطانوی سرزمین سے پاکستان میں سیاسی انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ سیاسی پناہ لینے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص دہشت گردی یا تشدد کی ترغیب دے سکے۔ دوسری طرف، پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ یہ احتجاج سیاسی تھا اور بیانات کو سیاق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اختلاف رائے کو دبایا جا سکے۔ معاملہ ابھی زیر تفتیش ہے اور پاکستان نے برطانیہ سے قانون کے مطابق کارروائی کی توقع ظاہر کی ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کی اندرونی سیاست، فوج اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تناؤ کو بھی اجاگر کرتا ہے، جہاں عمران خان کی پارٹی فوج پر الزامات لگاتی رہی ہے۔
