روس کا یوکرائن پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ
روس نے 9 جنوری 2026 کی رات کو یوکرین پر ایک بہت بڑا فضائی حملہ کیا ہے۔ یہ حملہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے سب سے شدید حملوں میں سے ایک ہے۔ روسی فوج نے سینکڑوں ڈرونز اور کئی میزائلوں کا استعمال کیا، جن میں ایک نیا اور بہت طاقتور میزائل بھی شامل ہے جس کا نام اوریشنک ہے۔ یہ میزائل بہت تیز رفتاری سے سفر کرتا ہے، یعنی آواز کی رفتار سے دس گنا زیادہ تیز، اور یہ جوہری ہتھیار بھی لے جا سکتا ہے۔ یہ میزائل یوکرین کے مغربی علاقے لیوو میں گرایا گیا، جو پولینڈ کی سرحد کے قریب ہے۔ پولینڈ نیٹو کا رکن ملک ہے، اس لیے یہ حملہ نیٹو ممالک کے لیے بھی ایک بڑی دھمکی سمجھا جا رہا ہے۔روس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس لیے کیا گیا کیونکہ یوکرین نے گزشتہ ماہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ پر ڈرون سے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
لیکن یوکرین اور امریکہ نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ایسا کوئی حملہ ہوا ہی نہیں۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ روسی حملہ صرف دہشت پھیلانے اور یورپ کو ڈرانے کے لیے ہے، خاص طور پر جب یوکرین کو مغربی ممالک سے مدد مل رہی ہے۔حملے میں روسی فوج نے کل 242 ڈرونز اور 36 میزائل فائر کیے۔ ان میں مختلف قسم کے میزائل شامل تھے جیسے کروز میزائل، بیلسٹک میزائل اور یہ نیا اوریشنک میزائل، یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ انہوں نے 226 ڈرونز اور 18 میزائلوں کو مار گرایا، لیکن کچھ میزائل اور ڈرونز اپنے ہدف تک پہنچ گئے۔حملے کا سب سے زیادہ اثر کیف (یوکرین کا دارالحکومت) پر پڑا۔ وہاں رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، آگ لگ گئی اور بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ تقریباً پانچ لاکھ لوگ بجلی کے بغیر رہ گئے۔
شدید سردی کے موسم میں یہ بہت تکلیف دہ ہے کیونکہ لوگوں کے گھروں میں گرمی نہیں ہے اور پانی بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ کیف میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے اور 25 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ کچھ رپورٹس میں تین ہلاک اور سولہ زخمی کا بھی ذکر ہے۔ لیوو اور دیگر علاقوں میں بھی توانائی کی تنصیبات اور صنعتی جگہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق قطر کا سفارتخانہ بھی ڈرون سے متاثر ہوا۔یہ حملہ سردیوں کے موسم میں یوکرین کی بجلی اور توانائی کی سہولیات کو تباہ کرنے کی روسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ گزشتہ سالوں میں بھی روس نے سردیوں میں ایسے حملے کیے تاکہ یوکرینی لوگوں کی زندگی مشکل ہو جائے اور وہ جنگ جاری رکھنے کی ہمت نہ کریں۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ رات کو ایک بڑا روسی حملہ ہو سکتا ہے۔
یورپی یونین، نیٹو، جرمنی، برطانیہ اور دیگر ممالک نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے دہشت گردی اور تصعید قرار دیا۔ یورپی رہنماؤں نے کہا کہ یوکرین کو مزید فضائی دفاعی نظام اور ہتھیار دینے چاہییں۔ جرمنی نے اوریشنک میزائل کے استعمال پر خاص طور پر غصہ ظاہر کیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ ختم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن روسی حملے جاری ہیں۔یہ جنگ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ روس اور یوکرین دونوں کو بہت نقصان ہوا ہے، لیکن روس اب نئے ہتھیار استعمال کر کے دکھا رہا ہے کہ وہ جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
یوکرین اپنے اتحادیوں سے مدد مانگ رہا ہے تاکہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کر سکے اور روسی حملوں کا جواب دے سکے۔ صورتحال ابھی بھی کشیدہ ہے اور مزید حملے ممکن ہیں۔ دنیا بھر میں امن کی اپیل کی جا رہی ہے، لیکن جنگ کا خاتمہ ابھی دور نظر آ رہا ہے۔
