پہلا ملک متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے غزہ کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کر لی ہے

 پہلا ملک متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے غزہ کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کر لی ہے


https://stsurdupoint.blogspot.com/2026/01/world-news-13.html



متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے غزہ کے لیے قائم کیے گئے "بورڈ آف پیس" میں شامل ہونے کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ اعلان 20 جنوری 2026 کو متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے کیا۔ یہ بورڈ غزہ میں جنگ کے بعد امن قائم کرنے، علاقے کی تعمیر نو کرنے، حماس کی جگہ ایک عبوری انتظامیہ قائم کرنے اور فلسطینیوں کے جائز حقوق کی حفاظت کے لیے کام کرے گا۔



یہ اقدام امریکی صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی جامع امن منصوبے کا اہم حصہ ہے، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 (2025) کے تحت منظور کیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بورڈ میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ خطے میں استحکام، تعاون اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔ متحدہ عرب امارات اس بورڈ میں شامل ہونے والا پہلا ملک بن گیا ہے، اور یہ فیصلہ ٹرمپ کی قیادت پر اعتماد کا اظہار سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ابراہم معاہدوں کے تناظر میں جو 2020 میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہوئے تھے۔


بورڈ آف پیس کی سربراہی خود صدر ٹرمپ کریں گے، اور اس کے ایگزیکٹو بورڈ میں امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور دیگر عالمی شخصیات شامل ہیں۔ اس بورڈ کو 60 سے زائد ممالک کو دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔ مستقل رکنیت کے لیے ایک بلین ڈالر کا تعاون درکار ہے، جو غزہ کی تعمیر نو کے لیے استعمال ہوگا، جبکہ ابتدائی طور پر تین سالہ رکنیت بغیر ادائیگی کے ممکن ہے۔متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ فلسطینیوں کے جائز حقوق کے حصول اور ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبے کی مکمل عملداری کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی قیادت اور عالمی امن کے لیے عزم پر اعتماد کا اظہار کیا۔



 متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ وہ بورڈ کے مشن میں فعال کردار ادا کر کے تعاون، استحکام اور خوشحالی کو بڑھانے کے لیے تیار ہے۔حماس نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور اسے فلسطینیوں کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔ دوسری طرف کئی ممالک نے احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے؛ مثال کے طور پر کچھ یورپی ممالک نے اسے اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کرنے والا قرار دیا ہے۔ اسرائیل نے بھی ترکی اور قطر کی ممکنہ شمولیت پر اعتراض کیا ہے۔یہ قدم غزہ میں دو سالہ جنگ کے بعد دوسری مرحلے کی طرف پیش رفت ہے، جس میں حماس کا مکمل غیر مسلح ہونا، ایک عبوری فلسطینی انتظامیہ (نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ) کا قیام اور تعمیر نو شامل ہے۔ یہ منصوبہ اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے۔عالمی سطح پر اسے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، لیکن کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ بورڈ کا دائرہ کار صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ عالمی تنازعات تک پھیل سکتا ہے۔



 تفتیش اور عملدرآمد جاری ہے، اور مزید ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ یہ خطے 
میں دیرپا امن اور بحالی کی طرف ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔

Previous Post Next Post

Contact Form