وزیر داخلہ محسن نقوی کا اہم بیان: مسلح تنظیموں اور چندہ جمع کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے
وفاقی وزیر داخلہ کا واضح پیغام: 'کوئی ایک تنظیم ٹارگٹ نہیں، مسلح گروہوں اور فنڈ ریزنگ کرنے والوں پر سخت ایکشن ہوگا‘، کراچی میں گورنر ہاؤس کے دورے پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا ہے کہ حکومت کسی ایک مخصوص تنظیم کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی بلکہ تمام مسلح گروہوں اور جو بھی چندہ جمع کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہو، ان کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
یہ بیان گورنر ہاؤس کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی اور کامران ٹیسوری کے ہمراہ دیا گیا، جو ملکی سلامتی، امن و امان اور شہری مسائل پر مبنی تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ہم تمام علمائے کرام کا احترام کرتے ہیں، لیکن جو اسلحہ لے کر آئے گا، اس سے نبردآزما ہوں گے۔ اس کے علاوہ، جو لوگ چندہ جمع کرتے ہیں، ان کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
مفتی منیب الرحمان کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی، کسی بھی صوبے میں کوئی جتھہ ہتھیاروں کے ساتھ ہوگا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی، کہیں بھی میری ضرورت ہوئی میں حاضر ہوں، وزیر داخلہ محسن نقوی
یہ بیان حالیہ سیکیورٹی چیلنجز ،ٹی ایل پی کے خلاف پنجاب حکومت کے گرینڈ آپریشن اور دہشت گردی کے خلاف حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ گورنر ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں کراچی کے ترقیاتی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ محسن نقوی نے یقین دہانی کرائی کہ کراچی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے گورنر سندھ کی دعوت پر خوشی کا اظہار کیا اور گورنر ہاؤس کے مشہور حلیم کی تعریف بھی کی
-min.png)