لاہور سمیت پنجاب بھر میں تحریک لبیک سے منسلک مساجد اور مدارس کو سیل کرنے کا سلسلہ شروع
لاہور: پنجاب حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) سے منسلک مساجد اور مدارس کو سیل کرنے کا سلسلہ تیزی سے شروع ہو گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، لاہور کی جامع مسجد یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عیدگاہ امرسدھولہ) میں نماز ادا کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، جس سے علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ یہ کارروائیاں گزشتہ ہفتے ٹی ایل پی کے احتجاجی مارچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازعات کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جہاں حکومت نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے مذہبی جماعت کی سرگرمیوں پر قدغن لگا دی ہے۔
پنجاب بھر میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں متحرک ہیں اور ٹی ایل پی سے وابستہ متعدد مساجد اور دینی مدارس پر سیل کی کارروائی کر رہی ہیں۔ لاہور کے علاوہ ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
یہ انتقامی کاروائیاں ٹی ایل پی کے "لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ" کے نتیجے میں سامنے آئی ہیں۔ ٹی ایل پی نے فلسطین اور غزہ کی حمایت میں اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا تھا، جو امریکہ کے سفارتخانے تک پہنچنے والا تھا مگر اس مارچ کے خلاف پنجاب حکومت نے سخت اقدامات اٹھائے تھے اور چند روز پہلے مریدکے کے مقام پر ایک گرینڈ آپریشن کیا ، جس میں کم از کم 180 افراد شہید ہوۓ تھے ۔
ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی سمیت متعدد رہنما ابھی تک لاپتا ہیں، جبکہ مریدکے میں پولیس آپریشن کے دوران احتجاجی کیمپ خالی کر دیا گیا تھا ۔ حکومت کا موقف ہے کہ ٹی ایل پی کی سرگرمیاں تشدد کو ہوا دیتی ہیں، جبکہ جماعت کا دعویٰ ہے کہ یہ سیاسی انتقام ہے۔
Tags:
PAKISTAN NEWS
