شہید ارشد شریف: ایک آواز جو خاموش ہوئی، مگر گونجتی رہے گی

 شہید ارشد شریف: ایک آواز جو خاموش ہوئی، مگر گونجتی رہے گی

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/10/blog-post_40.html

ازقلم :- ایس ٹی ایس


 تیئس اکتوبر 2025 ایک ایسا دن ہے جو پاکستان کی صحافتی تاریخ میں ایک کھلا زخم بن چکا ہے۔ تین سال قبل، 23 اکتوبر 2022 کو، کینیا کے دارالحکومت نیئروبی کے قریب ایک روڈ بلاک پر پاکستانی صحافی ارشد شریف کو پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ سر پر گولی لگنے سے شہید ہو گئے، اور دنیا نے ایک بہادر آواز کو کھو دیا۔ آج، جب ہم اس برسی پر غور کرتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا انصاف کی کوئی کرن نظر آ رہی ہے؟ یا پھر یہ زخم اب بھی تازہ ہے، اور مجرم آزاد گھوم رہے ہیں؟


ارشد شریف کوئی عام صحافی نہ تھے۔ وہ ایک جنگجو تھے جو سچ کی تلاش میں نکلے تھے، اور اسی لیے انہیں 'شہید' کہا جاتا ہے۔ 50 سال کی عمر میں، انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تحقیقاتی صحافت کو وقف کر دیا۔ آج ٹی وی سے شروع کرتے ہوئے، اے آر وائے نیوز پر 'پاور پلے' جیسے پروگراموں تک، انہوں نے ہمیشہ طاقتوروں کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت دکھائی۔ پاناما کیس سے لے کر سیاسی سازشوں تک، ان کی رپورٹنگ نے کئی راز کھولے۔


 سال 2019 میں صدارتی 'پرائیڈ آف پرفارمنس' ایوارڈ ان کی اس بہادری کا ثبوت تھا۔ مگر 2022 میں، جب انہوں نے ایک متنازع انٹرویو کیا اور فوج پر تنقید کی، تو ان کی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔ ایف آئی اے کی مبینہ ہراسانی کے بعد وہ خود ساختہ جلاوطنی میں دبئی اور پھر کینیا چلے گئے۔ وہاں، ایک 'غلط شناخت' کے نام پر انہیں قتل کر دیا گیا۔ کینین پولیس کا یہ دعویٰ آج بھی ہنسی کا باعث ہے، کیونکہ پوسٹ مارٹم رپورٹس اور عدالتی فیصلوں نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ کوئی حادثہ نہ تھا، بلکہ ایک منصوبہ بند قتل تھا۔ 


تین سال گزر گئے، مگر انصاف کی راہ میں رکاوٹیں اب بھی کھڑی ہیں۔ ابتدائی طور پر، پاکستان نے ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنائی، جو کینیا گئی مگر وہاں ثبوتوں تک رسائی نہ ملی۔ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا، مگر کیس سماعتوں کے بعد رک گیا۔


 کینیا کی ہائی کورٹ نے جولائی 2024 میں ایک تاریخی فیصلہ سنایا: پولیس کی فائرنگ کو 'انسانی حقوق کی خلاف ورزی' قرار دیا، اور مجرم افسران کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔ عدالت نے ارشد کی بیوہ جویریہ صدیق کو 68 ہزار ڈالر زرتلافی بھی ادا کرنے کا حکم دیا۔ جویریہ نے اسے 'جزوی فتح' کہا، مگر ان کا درد یہ ہے کہ پاکستان میں ابھی تک ملزمان کی نشاندہی نہیں ہوئی۔


 اقوام متحدہ نے بھی مطالبہ کیا کہ تحقیقات مکمل ہوں اور رپورٹ عوامی سطح پر آئے، مگر پاکستان کی حکومت اور فوج پر الزامات کی تردید کے علاوہ کچھ نہ ہوا۔ 


پاکستان میں صحافت کی حالتِ زار اس برسی پر ایک اور سوال اٹھاتی ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق، ہم ایک سو اسی (180) ممالک میں (150)ویں نمبر پر ہیں – ایک ایسا ملک جہاں صحافیوں کو دھمکیاں، تشدد اور خاموشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ارشد شریف کی موت کے بعد، ہزاروں لوگوں نے ان کا جنازہ ادا کیا، اور آج ٹوئٹر (اب ایکس) پر ان کی یاد تازہ کی جا رہی ہے۔ ان کی فیملی، ساتھی صحافی، اور سیاسی رہنما جیسے عمران خان نے انہیں 'سچ کی قربانی' قرار دیا۔ مگر کیا یہ یادداشتیں کافی ہیں؟ جب تک مجرموں کو سزا نہ ملے، یہ صرف ایک یاد ہوگی، نہ کہ سبق۔


ارشد شریف کی شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچ بولنا کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ ان کی اہلیہ جویریہ، جو خود صحافی ہیں، آج بھی جدوجہد کر رہی ہیں۔  وہ کہتی ہے کہ : "میں اب وہ جویریہ نہیں جو پہلے تھی، میری سکون اور آسائش ارشد کے ساتھ ہی چلی گئی۔" یہ الفاظ ہر صحافی کے دل کو چھو جاتے ہیں۔ تین سال بعد، ہمارا فرض ہے کہ ان کی آواز کو زندہ رکھیں۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا از خود نوٹس دوبارہ زندہ کیا جائے، اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں بین الاقوامی تحقیقات ہوں۔ 



شہید ارشد شریف، آپ کی قربانی رائیگاں نہ جائے گی۔ آپ کی طرح، ہم بھی سچ کی جنگ لڑیں گے۔ انصاف ملے گا، انشاء اللہ۔ 
پاکستان زندہ باد
صحافت زندہ باد
Previous Post Next Post

Contact Form