امریکہ نے روس کی دو بڑی آئل کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں: ٹرمپ کا پوتن پر طنز، "بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں
امریکہ نے روس پر یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے مزید دباؤ ڈالنے کا اعلان کرتے ہوئے روس کی دو سب سے بڑی آئل کمپنیوں، روزنیفٹ اور لکوائل پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ہر بار ولادیمیر (پوتن) سے بات چیت بہت اچھی ہوتی ہے اور پھر کچھ ہوتا نہیں ہے"۔
یہ اعلان 22 اکتوبر 2025 کو ہوا، جو کہ پوتن کے ساتھ مجوزہ سمٹ کی منسوخی کے فوراً بعد سامنے آیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ قدم یوکرین تنازعے میں ماسکو پر سفارتی اور معاشی دباؤ کو تیز کرنے کی کوشش ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے روزنیفٹ (روس کی سرکاری آئل کمپنی) اور لکوائل (پرائیویٹ سیکٹر کی بڑی کمپنی) پر پابندیاں لگا دی ہیں، جو روسی معیشت کا مرکزی ستون ہیں۔ ان کمپنیوں کی 28 ذیلی کمپنیاں بھی متاثر ہوں گی۔ ٹریژری سیکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ "پوتن کی جنگ بندی سے انکار کی وجہ سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے، جو کریملن کی جنگی مشینری کو فنڈ فراہم کرتی ہیں"۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا کہ پوتن سے فون کالز اور ملاقاتیں "بے فائدہ" ہیں، کیونکہ وہ "ایماندار اور کھلے دل سے بات نہیں کرتے"۔ انہوں نے بڈاپسٹ میں مجوزہ سمٹ کو منسوخ کر دیا، جو الاسکا میں اگست سال2025 کی ناکام ملاقات کے بعد تھی۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ "بڑی پابندیاں" عارضی ہوں گی اور جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔
یہ پابندیاں روسی تیل کی برآمدات کو متاثر کریں گی، جو جنگ کی مالی معاون ہیں۔ یوکرینی حکام نے اسے "اچھی خبر" قرار دیا، جبکہ یورپی اتحادی ٹرمپ کی "غیر متوقع" پالیسی سے مطمئن ہیں۔
