لاکھوں مسلمانوں کا قاتل ،اسرائیلی پارلیمنٹ میں اسرائیلی فتح کا اعلان کرنے والے صدر ٹرمپ کے لیے شہباز شریف کے الفاظ فلسطینی مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں؟
پیر کے دن مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں ٹرمپ کے بیس نکات جنھیں غزہ امن معاہدے کا نام دیا گیا ان پر دستخط کیے گئے ۔ اس تقریب میں امریکہ اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے بیس ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اُن تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے غزہ امن معاہدے کو ممکن بنانے میں کردار ادا کیا۔
اس معاہدے کا مقصد غزہ کی پٹی میں جنگ کا خاتمہ کرنا ، غزہ کی تعمیر نو کرنا ، اس معاہدے کے تحت پیس آف بورڈ کا قیام عمل میں لایا جاۓ گا جس کے سربراہ صدر ٹرمپ اور ٹونی بلیئر ہوگے ۔ یہ امن بورڈ غزہ کی تعمیر نو کا فریم ورک تیار کرے گی اور اس کی فنڈنگ سنھبالے گا اور غزہ میں سرمایہ کاری کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ ملکر کام کرے گا ، یہ معاہدہ بظاہر اسرائیل کو ریاست تسلیم کرنے اور امن کے نام پر غزہ میں یہودیوں کو آباد کرنا شامل ہے ۔
اب جب اس تقریب میں صدر ٹرمپ نے خطاب شروع کیا اور کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہ کہنا ہے کہ میرے پسندیدہ پاکستان کے فیلڈ مارشل، جو یہاں موجود نہیں ہیں، لیکن وزیراعظم شہباز شریف یہاں ہیں۔ یہ جملہ کہنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے مڑ کر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی طرف دیکھا (جو سٹیج پر ٹرمپ کے بالکل پیچھے کھڑے تھے) اور کہا آپ اُن کو (عاصم منیر) میری طرف سے سلام پہنچائیں گے۔
یہ بات کرنے کے بعد اگلے ہی لمحے صدر ٹرمپ نے اپنا خطاب روکتے ہوئے شہباز شریف کو پوڈیم (مائیک) پر آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کیا آپ وہ بات کہنا چاہیں گے جو آپ نے مجھ سے اُس دن کہی تھی؟ اور کیا آپ بتانا چاہیں گے کہ انھوں نے کیا کہا تھا؟ میرا خیال ہے وہ بہت خوبصورت بات تھی۔
اس کے بعد شہباز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش پر غزہ امن سربراہی اجلاس سے متعلق ہونے والی اس تقریب سے خطاب کیا۔ شہباز شریف نے صدر ٹرمپ اور کمرے میں موجود سربراہانِ مملکت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کہوں گا کہ آج کا دن جدید تاریخ کے عظیم ترین دنوں میں سے ایک ہے کیونکہ آج انتھک کوششوں کے بعد امن حاصل کیا گیا ہے اور اس کی قیادت صدر ٹرمپ نے کی جو واقعی ایک امن پسند شخص ہیں اور جنھوں نے گذشتہ مہینوں کے دوران دن رات محنت کی تاکہ اس دنیا کو امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنایا جا سکے۔
انھوں نے ایک بار پھر پاکستان کی جانب سے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نےصدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔ ان کی غیر معمولی خدمات کے باعث جن کی بدولت پہلے انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ رک گئی اور پھر فائر بندی ممکن ہوئی۔
شہباز شریف نے مزید کہا جناب صدر میں آپ کی مثالی قیادت کو سلام پیش کرتا ہوں، آپ کی بصیرت افروز رہنمائی کو سلام پیش کرتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ آپ وہ شخص ہیں جس کی دنیا کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت تھی۔خدا آپ کو سلامت رکھے، خدا آپ کو طویل عمر دے تاکہ آپ یوں ہی انسانیت کی خدمت کرتے رہیں۔
اب شہباز شریف کے یہ الفاظ سن کر صدر ٹرمپ ضرور خوش ہوا ہوگا مگر شہباز شریف کے یہ الفاظ لاکھوں شہید فلسطینی مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر تھے کیوں کی اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور امریکہ نے غزہ جنگ میں معصوم مسلمانوں کے قتل عام میں اسرائیل کی مدد کی ہے اور پیر کے روز ہی ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر اسرائیلوں کو فتح کی مبارک دی اور کہا کہ اسرائیل نے وہ سب کچھ جیت لیا جو طاقت کے بل پر جیتا جاسکتا تھا۔
دنیا بھر کے مسلمان شہباز شریف کے اس خطاب پر تنقید کررہے ہیں اور معروف صحافی مہدی حسن نے شہباز شریف کی ٹرمپ کے تعریفی ویڈیو شیئر کرتے ہوے سخت کراہت کا اظہار کیا اور الٹی والی ایموجی لگا دی۔
-min.png)