‏قید قبول ہے موت قبول ہے، لیکن غلامی کسی صورت قبول نہیں

 ‏قید قبول ہے موت قبول ہے، لیکن غلامی کسی صورت قبول نہیں

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-11%20.html

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے اڈیالہ جیل سے اپنی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان  ذریعے جاری کردہ ایک تفصیلی پیغام میں اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قید قبول ہے، موت قبول ہے، مگر غلامی کسی بھی صورت قبول نہیں۔ یہ بیان گزشتہ 4 نومبر 2025 کو سامنے آیا، جو ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک نئی مزاحمتی لہر کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔

 عمران خان نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نہ تو فارم 47 کی مبینہ چوری والی کٹھ پتلی حکومت سے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ سے کسی قسم کے مذاکرات کرے گی، البتہ اگر کوئی بات چیت ضروری ہوئی تو وہ اتحادی سربراہ محمود خان اچکزئی کے ذریعے ہی ہوگی۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے ان کے دور میں ہونے والے ظلم کی شدید مذمت کی، خاص طور پر خواتین، بچوں اور بزرگوں پر ہونے والے تشدد کا ذکر کیا۔

عمران خان نے اپنے بیان میں نو مئی 2023 کے واقعات، چھبیس نومبر 2024 کی گرفتاریوں، آزاد کشمیر اور مریدکے احتجاجوں کے دوران نہتے شہریوں پر گولیاں چلانے کو غیر مہذب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی وفادار رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کو کینسر کی مریضہ ہونے کے باوجود جیل میں رکھنے اور بشریٰ بیگم کو تنہائی کی قید میں ڈالنے کو پارٹی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بتایا۔

 ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ پی ٹی آئی نہیں چھوڑے، ان پر ظلم کیا جا رہا ہے، جبکہ غداروں کو انعام دیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی قیدی کو ان جیسا سلوک نہیں کیا گیا، جہاں بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں اور وہ دہشت گردوں جیسی تنہائی میں رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "آزادی یا موت کے سوا کوئی آپشن قبول نہیں"، اور یہ جدوجہد قوم کی خاطر ہے، نہ کہ ذاتی مفادات کے لیے۔اس بیان کے پس منظر میں عمران خان کی دو سالہ قید کا ذکر بھی اہم ہے، جو 5 اگست 2023 کو توشہ خانہ کیس میں گرفتاری سے شروع ہوئی۔ اس دوران ان پر متعدد مقدمات درج ہوئے، جن میں سائفر کیس، عدت والا نکاح کیس اور دیگر شامل ہیں، اور انہیں 10 سال سے زائد سزائیں سنائی گئیں، جو بعد میں اپیلوں میں معطل یا تبدیل ہوئیں۔ عمران خان نے جیل سے ہی پارٹی کو ہدایات جاری کیں کہ تمام عہدیدار، پارلیمنٹیرینز اور وکلاء ہائی کورٹس سے رجوع ہوں، مقدمات کی سماعت کی تاریخیں طے کروائیں، اور سلمان اکرم راجہ کو عملدرآمد کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی۔

 انہوں نے اتحادی جماعتوں جیسے جمیعت علمائے اسلام (ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو بھی اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی، اور کہا کہ یہ جدوجہد جمہوریت کی بحالی، آئین کی حکمرانی اور چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی کے لیے ہے۔یہ بیان ملک بھر میں پی ٹی آئی کارکنوں کے لیے ایک نئی امید کا باعث بنا ہے۔



Previous Post Next Post

Contact Form