زمین کا پھیپھڑا جو دنیا کی آکسیجن کا تقریبا 20 فیصد حصہ پیدا کرتا ہے

 زمین کا پھیپھڑا جو دنیا کی آکسیجن کا تقریبا 20 فیصد حصہ پیدا کرتا ہے

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-10.html

دنیا کا سبز پھیپھڑاایمازون جنگل دنیا کا سب سے بڑا قدرتی بارانی جنگل ہے جو جنوبی امریکہ میں تقریباً 55 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ جنگل برازیل، پیرو، کولمبیا، وینزویلا، ایکواڈور، بولیویا، گیانا، سورینام اور فرانسیسی گیانا جیسے نو ممالک کے علاقوں میں واقع ہے، جن میں سے 60 فیصد حصہ برازیل میں آتا ہے۔ 

اسے "زمین کا پھیپھڑا" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دنیا کے آکسیجن کا تقریباً 20 فیصد حصہ پیدا کرتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے ماحولیاتی توازن برقرار رکھتا ہے۔ ایمازون دریا، جو دنیا کا سب سے لمبا اور پانی والا دریا ہے، اس جنگل کے بیچ سے گزرتا ہے اور ہزاروں چھوٹے بڑے دریا اسے سیراب کرتے ہیں۔یہ جنگل حیاتیاتی تنوع کا خزانہ ہے۔ یہاں 40 ہزار سے زیادہ پودوں کی اقسام، 3 ہزار مچھلیوں کی اقسام، 1,300 پرندوں کی اقسام، 430 ممالیہ جانور، 1,000 سے زیادہ قسم کے کیڑے مکوڑے اور لاتعداد جراثیم پائے جاتے ہیں۔

 جگوار، سلوٹھ، ایناکونڈا، زہریلے مینڈک، رنگ برنگے طوطے، اورینٹان، ڈولفن اور ہزاروں قسم کے کیڑے یہاں کے رہائشی ہیں۔ کئی دوائیں جیسے کینسر، ملیریا اور درد کش ادویات کے اجزا بھی یہاں کے پودوں سے ملتے ہیں۔ قدیم زمانے میں یہاں انسانی قبائل رہائش پذیر تھے جنہوں نے مٹی کو زرخیز بنانے کے لیے "ٹیرا پریٹا" نامی سیاہ مٹی بنائی، لیکن یہ جنگل بنیادی طور پر قدرتی ہے، انسانی بنایا ہوا نہیں۔ایمازون جنگل 55 ملین سال سے زیادہ پرانا ہے اور یہ ایوسین دور سے موجود ہے۔ یہاں ہر سال 2,000 سے 3,000 ملی میٹر بارش ہوتی ہے جو اسے ہمیشہ سبز اور گھنا رکھتی ہے۔ درختوں کی اوسط اونچائی 30 سے 50 میٹر تک ہوتی ہے اور کچھ درخت 100 میٹر سے بھی بلند ہوتے ہیں۔ 

جنگل کے اندر روشنی کم پہنچتی ہے اس لیے زمین پر جھاڑیاں اور فنجائی زیادہ ہوتی ہیں۔ یہاں کا ماحولیاتی نظام بہت نازک ہے، ایک تبدیلی پورے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔بدقسمتی سے آج یہ جنگل شدید خطرے میں ہے۔ انسانوں کی وجہ سے ہر سال لاکھوں ہیکٹر جنگل کاٹا جا رہا ہے۔ جنگلات کی کٹائی، کان کنی، زراعت (خاص طور پر سویا بین اور مویشی پالنا)، شاہراہیں اور ڈیم بنانے کی وجہ سے جنگل تیزی سے سکڑ رہا ہے۔ 1970 سے اب تک تقریباً 20 فیصد جنگل تباہ ہو چکا ہے۔ اس سے جانوروں کی اقسام ختم ہو رہی ہیں، بارشیں کم ہو رہی ہیں، اور گلوبل وارمنگ بڑھ رہی ہے۔ 

آگ لگانے سے جنگل جل کر راکھ ہو جاتا ہے اور دوبارہ اگانا مشکل ہو جاتا ہے۔حکومتیں، این جی اوز اور عالمی ادارے اب جنگل کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ برازیل نے جنگل کی حفاظت کے قوانین سخت کیے ہیں، مقامی قبائل کو حقوق دیے جا رہے ہیں، اور ری پلانٹیشن پروگرام چل رہے ہیں۔ ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے: کاغذ کم استعمال کریں، ری سائیکلنگ کریں، اور ایسی مصنوعات سے پرہیز کریں جو جنگل کی تباہی کا سبب بنتی ہوں۔ اگر ایمازون بچ گیا تو زمین کا ماحول بچے گا، ورنہ مستقبل خطرے میں ہے۔یہ جنگل صرف ایک جنگل نہیں، بلکہ زندگی کا سرچشمہ، سائنس کا عجائب گھر اور انسانیت کی ذمہ داری ہے۔ اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔


Previous Post Next Post

Contact Form