دنیا کا طاقت وار شخص ہار گیا مگر قوم اور ادارے جیت گئے

 دنیا کا طاقت وار شخص ہار گیا مگر قوم اور ادارے جیت گئے 

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-9.html


امریکہ کو دنیا کا سب سے طاقتور ملک سمجھا جاتا ہے، اور اس کی وجہ اس کی فوجی قوت ہے۔ اس کے پاس گیارہ طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں جو ہر وقت سمندروں میں گشت کرتے ہیں اور ایک پورا شہر سمندر پر تیرتا ہے۔ اس کی فضائیہ کے پاس دنیا کے نوے فیصد اسٹیلتھ طیارے ہیں جو رڈار پر بھی نظر نہیں آتے۔ اس کی زمینی فوج واحد فوج ہے جو اڑتالیس گھنٹوں کے اندر دنیا کے کسی بھی کونے میں دس ہزار فوجیوں کو بھاری ہتھیاروں، ٹینکوں اور توپوں سمیت اتار سکتی ہے۔

 اس کے سیٹلائٹ خلا سے زمین پر ہر لمحہ نظر رکھتے ہیں، فوج کے ہر سپاہی سے رابطہ رکھتے ہیں، فیصلے لمحوں میں کرتے ہیں اور نتائج بھی فوراً دیکھ لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر لگتا ہے کہ یہی امریکہ کی طاقت ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ صرف ظاہری طاقت ہے، اصل طاقت کچھ اور ہے۔امریکہ کی اصل طاقت اس کے ادارے ہیں، اس کا علم ہے، اور اس کا بیانیہ ہے۔ یہ تین چیزیں برسوں کی محنت سے بنتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مزاج پیدا کرتی ہیں جو فرد کو ادارے کے سامنے بے بس کر دیتا ہے۔ چاہے کوئی صدر ہو، امیر ہو، یا طاقتور لابی، وہ ادارے کے آگے جھک جاتا ہے۔ یہ مزاج راتوں رات نہیں بنا، یہ صدیوں کی تعلیم، سائنس، انصاف اور شفافیت سے آیا ہے۔

نیویارک شہر کے مئیر کا تازہ الیکشن اس کی زندہ مثال ہے۔ ظہران ممدانی نامی ایک چھتیس سالہ نوجوان جیت گیا۔ وہ فلسطینی نژاد امریکی ہے، سوشلسٹ ہے، غریبوں اور کرائے داروں کی بات کرتا ہے۔ اس کے خلاف کون نہیں تھا؟ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوری سیاسی طاقت لگا دی۔ امریکہ کی تاریخ کی سب سے مضبوط لابی ایپک اس کے خلاف کھڑی ہوئی، جس کے پاس اربوں ڈالر اور میڈیا کی طاقت ہے۔ بڑے بڑے اخبار، ٹی وی چینلز، فنڈنگ، اشتہارات، سب اس کے خلاف تھے۔ پھر بھی ظہران جیت گیا۔ کیوں؟ کیونکہ امریکہ کے الیکشن سسٹم نے کام کیا۔ ووٹ گنے گئے، نتائج سامنے آئے، اور سب نے مان لیا کہ ظہران کا بیانیہ عام لوگوں کے درد سے جڑا ہے، مہنگائی، کرایہ، صحت، تعلیم کے بارے میں لوگوں نے اسے سنا، سمجھا، اور ووٹ دے دیا۔ 

یہ ہے بیانیہ کی طاقت، یہ ہے ادارے کی طاقت اور اب ہمارا حال دیکھیں، ہمارے ہاں ادارے نہیں، صرف طاقتور افراد ہیں۔ عدالت ہو، پارلیمنٹ ہو، یا الیکشن کمیشن، سب ایک شخص کے اشارے پر چلتے ہیں۔ علم نہیں، صرف ڈگریاں ہیں۔ یونیورسٹیاں ہیں، لیکن نئی ایجادات، تحقیق، یا سائنس کہیں نظر نہیں آتی۔

 بیانیہ نہیں، صرف جھوٹ، خوف اور سازشیں ہیں۔ یہاں طاقتور جیتتا ہے سچ نہیں۔ یہاں جنگل کا قانون ہےاور جنگل میں شیر راج کرتا ہے، کمزور مر جاتا ہے۔ جنگل کو ادارے کی ضرورت نہیں، علم کی ضرورت نہیں، بیانیہ کی ضرورت نہیں۔طاقت کا اصل فارمولا یہ ہے کہ فوج اور پیسہ تو دونوں کے پاس ہو سکتے ہیں، لیکن جب تک ادارے مضبوط نہ ہوں، علم ترقی نہ کرے، اور بیانیہ سچ اور لوگوں کے درد پر مبنی نہ ہو تو قوم رسوا ہی رہے گی۔ 

ہمارے پاس ایٹم بم ہے، میزائل ہیں، فوج ہے، لیکن ہم بھیک مانگتے ہیں، قرض لیتے ہیں، اور دنیا ہمیں حقیر سمجھتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ہم جنگل میں رہ رہے ہیں اور امریکہ شہر میں رہتا ہے، جہاں قانون راج کرتا ہے، سچ راج کرتا ہے، بیانیہ راج کرتا ہے۔ جنگل میں طاقت بندوق سے آتی ہے، شہر میں طاقت ادارے، علم اور سچ سے آتی ہے۔ ہم نے اب تک جنگل بنایا ہے۔ اب فیصلہ ہمارا ہے کہ کیا ہم جنگل میں رہنا چاہتے ہیں، یا ایک سچا شہر، ایک مضبوط تمدن بنانا چاہتے ہیں؟


Previous Post Next Post

Contact Form