وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا حتمی مسودہ جاری کر دیا ہے۔

 وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا حتمی مسودہ جاری کر دیا ہے۔

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-15.html


 یہ بل آج سینیٹ میں پیش ہو گیا ہے اور کل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ 49 شقوں پر مشتمل یہ بل پاکستان کے آئین کے 48 آرٹیکلز میں بنیادی تبدیلیاں لانے جا رہا ہے۔ سب سے بڑی تبدیلی سپریم کورٹ سے الگ ایک نئی “وفاقی آئینی عدالت” کا قیام ہے جس کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا اور یہ عدالت آئینی تشریح، بنیادی حقوق کے مقدمات، وفاق اور صوبوں کے تنازعات سمیت تمام آئینی معاملات کی واحد عدالت ہوگی۔ 

بل کے مطابق آرٹیکل 184 (سوو موٹو) مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا، سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات شدید محدود ہو جائیں گے اور نئی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے جبکہ سپریم کورٹ اور نئی عدالت کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے۔ ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کی جا رہی ہے جس میں دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس شامل ہوں گے۔

 فوجی ڈھانچے میں بھی تاریخی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، 27 نومبر 2025 سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا، آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا اضافی عہدہ دے دیا جائے گا اور فیلڈ مارشل کے رینک کو قومی ہیرو کا درجہ دے کر تاحیات مراعات دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ صوبائی کابینہ میں مشیروں کی تعداد بڑھانے، سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نو اور متعدد آرٹیکلز کی حذفگی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

 حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ترامیم 2006 کے چارٹر آف ڈیموکریسی پر عملدرآمد ہیں جبکہ اپوزیشن، وکلا اور سول سوسائٹی اسے “آئین اور عدلیہ کی موت” قرار دے رہے ہیں۔ بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دو تہائی اکثریت سے منظور کرنا ہوگا جو 12 نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔

-:ستائیسویں  آئینی ترمیمی بل 2025 کا مکمل ڈرافٹ   
شقوں کی تعداد: 49  
متاثرہ آرٹیکلز: 48

آرٹیکل 175:-  وفاقی آئینی عدالت کا قیام
  
آرٹیکل 175اے:- جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو – دونوں عدالتوں (سپریم کورٹ + وفاقی آئینی عدالت) کے چیف جسٹس ارکان ہوں گے 
 
آرٹیکل 175بی تا 175ایل:- نیا باب شامل، وفاقی آئینی عدالت کے قیام، اختیارات، طریقہ کار اور قواعد  

آرٹیکل 176: سپریم کورٹ کی نشستوں کی تعداد میں تبدیلی اور اصطلاحات کی تبدیلی  

آرٹیکل 177: وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور ججز کی تقرری  

آرٹیکل 178: وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی مدت ملازمت = 3 سال  

آرٹیکل 179: وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی ریٹائرمنٹ عمر = 68 سال  

آرٹیکل 180–183: سپریم کورٹ سے متعلق تمام شقیں وفاقی آئینی عدالت کے مطابق تبدیل  

آرٹیکل 184: مکمل حذف، سوو موٹو نوٹس کا اختیار ختم  

آرٹیکل 186: مکمل حذف  

آرٹیکل 189: وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم، سپریم کورٹ کے فیصلے لازم نہیں  

آرٹیکل 190: تمام عدالتوں کو وفاقی آئینی عدالت کے احکامات ماننا لازم  

آرٹیکل191 اے:- مکمل حذف 
 
آرٹیکل 193: ہائی کورٹ ججز کی تقرری میں تبدیلی  

آرٹیکل 209: سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نو اور دونوں چیف جسٹس ارکان، ساٹھ دن میں نئے قواعد بنانے کی شرط  

آرٹیکل 243:  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم، آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا اضافی عہدہ، فیلڈ مارشل رینک کو قومی ہیرو کا درجہ، تاحیات مراعات

آرٹیکل 130: صوبائی کابینہ میں مشیروں کی تعداد میں اضافہ (15 سے 25 تک) 
 
آرٹیکل 140 اے:- ضلعی حکومتوں سے متعلق شقیں حذف  

آرٹیکل199 اے: وفاقی آئینی عدالت کو ایڈوائزری دائرہ کار
  
نیا آرٹیکل 203: وفاقی آئینی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات سننے کا خصوصی اختیار 

وفاقی آئینی عدالت کی ساخت
چیف جسٹس: 3 سال کے لیے  
ججز: تمام صوبوں سے برابر نمائندگی  
بینچز: 5، 7، 9 رکنی  
صدر مقام: اسلام آباد  
دائرہ کار: آئینی تشریح، بنیادی حقوق، وفاقی اور صوبائی تنازعات، صدارتی ریفرنس


Previous Post Next Post

Contact Form