بلوچستان میں لیویز فورس کا احتجاج ، لیویز فورس کیا ہے؟ اور اس کو ختم کرنے کا مقصد کیا ہے؟
لیویز فورس کیا ہے؟
لیویز فورس بلوچستان کی ایک پیرا ملٹری فورس ہے جو برطانوی راج سے چلی آ رہی ہے۔ یہ تقریباً 140 سے 142 سال پرانی ہے (1860 کی دہائی میں قائم ہوئی) اور صوبے کے دیہی اور قبائلی علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے کی ذمہ دار ہے۔ یہ فورس مقامی قبائل سے بھرتی کی جاتی ہے، جو علاقائی زبان، رسم و رواج اور قبائلی ڈھانچے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
بلوچستان کا 85-90% رقبہ (دیہی علاقے) لیویز پولیس کے زیر انتظام تھا، جبکہ شہری علاقے بلوچستان پولیس کے پاس ہیں۔ لیویز کی نفری تقریباً اٹھائیس ہزار ہے، جو کم بجٹ میں وسیع علاقوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ یہ سستی اور موثر فورس سمجھی جاتی ہے کیونکہ جرائم کی شرح لیویز علاقوں میں پولیس سے کم ہے۔ امن قائم رکھنا، قبائلی جھگڑوں کا حل، پولیو مہمات میں مدد، قدرتی آفات میں ریسکیو، ہائی ویز پر پٹرولنگ، اور میگا پراجیکٹس جیسے سی پیک کی سیکیورٹی لیویز پولیس کے فرائض میں شامل ہیں۔ یہ فورس ڈپٹی کمشنرز اور تحصیلداروں کے ماتحت کام کرتی ہے۔
یہ قبائلی نظام کی نمائندگی کرتی ہے، جہاں مقامی سرداروں اور جرگوں کا کردار اہم ہوتا ہے، جو کمیونٹی پولیسنگ کا مثالی نمونہ ہے۔ لیکن کچھ روز پہلے بلوچستان میں صوبائی کابینہ کے فیصلے کے بعد لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہوا جس کے بعد لیویز اہلکاروں نے قلات، چاغی سمیت کئی اضلاع میں مظاہرے کیے۔ وہ اسے اپنی شناخت کا خاتمہ اور توہین عدالت قرار دے رہے ہیں (ہائیکورٹ نے پہلے اسٹے آرڈر دیا تھا)۔ سیاسی جماعتیں اور قبائلی جرگے بھی مخالفت کر رہے ہیں۔
ایک سو چالیس سال پرانا قبائلی نظام کیوں ختم کیا جا رہا ہے؟
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دہشت گردی کے بڑھتے رجحانات، سیکیورٹی چیلنجز اور جدید پولیسنگ کی ضرورت کی وجہ سے ہے۔ بلوچستان میں دو الگ فورسز (لیویز اور پولیس) سے کوآرڈینیشن کی کمی ہوتی ہے، جو مجرموں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ جبکہ ایک متحد فورس سے فوری ردعمل اور بہتر کوآرڈینیشن، پیشہ ورانہ تربیت اور جدید آلات اور امن و امان کا یکساں نظام دہشت گردی سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت فراہم کرے گا۔وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عوامی مقبولیت کے باوجود ناگزیر ہے۔
مخالفین کا موقف ہے کہ لیویز کم وسائل میں بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔ ماضی میں انضمام (2005 میں مشرف دور) ناکام ہوا اور 2010 میں بحال کیا گیا۔یہ قبائلی شناخت اور ثقافت کا خاتمہ ہے۔لیویز کاؤنٹر ایمرجنسی کے لیے نہیں بلکہ عام پولیسنگ کے لیے ہے۔ سیکیورٹی ناکامیوں کا الزام لیویز پر ڈالنا غلط ہے۔
ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے
-min.png)