سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا امریکہ دورے سے قبل ہی اسرائیل کو
ریاست تسلیم کرنے پر واضح پیغام جاری
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وائٹ ہاؤس دورے سے چند روز قبل ہی امریکی انتظامیہ کو سفارتی ذرائع سے ایک انتہائی واضح اور سخت پیغام پہنچا دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی یا ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کا کوئی امکان نہیں جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ٹھوس، ناقابلِ واپسی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ روڈ میپ نہ بنایا جائے۔
یہ پیغام 18 نومبر 2025 کو ہونے والی ٹرمپ ملاقات سے قبل اس لیے بھیجا گیا تاکہ واشنگٹن میں کوئی غلط فہمی یا غیر حقیقی توقعات پیدا نہ ہوں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد انٹرویوز میں دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب "بہت جلد" اسرائیل کو تسلیم کر لے گا اور ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بن جائے گا، لیکن ریاض نے فوری طور پر اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی موجودہ حکومت فلسطینی ریاست کے قیام کی کسی بھی شکل میں تیار نہیں، لہٰذا نارملائزیشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سعودی حکام نے یہ بھی باور کرایا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں فلسطینیوں کے حقوق کو کبھی پسِ پشت نہیں ڈالیں گے، چاہے اس کے نتیجے میں کتنا ہی دباؤ کیوں نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق، ریاض نے واضح کیا ہے کہ ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر دفاعی معاہدہ، جوہری پروگرام کی نگرانی میں نرمی، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبے میں تعاون جیسے اہم ایجنڈوں پر بات چیت ضرور ہوگی، مگر اسرائیل کے معاملے کو بالکل الگ رکھا جائے گا۔ اٹلانٹک کونسل کے ماہر جوناتھن پانیکاف سمیت متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سعودی ریڈ لائن دراصل ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے کیونکہ سعودی شمولیت کے بغیر ابراہیمی معاہدوں کی توسیع ناممکن ہے۔دوسری جانب، غزہ میں جنگ بندی کے بعد عرب دنیا میں فلسطینیوں کے لیے ہمدردی عروج پر ہے اور سعودی عرب اپنی قیادت کو عرب اور مسلم دنیا میں مضبوط کرنے کے لیے اس موقف کو اپنا اثاثہ سمجھتا ہے۔
ویژن 2030 کے باوجود، محمد بن سلمان نے بارہا کہا ہے کہ فلسطین کاز سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور اسے کسی بھی قیمت پر قربان نہیں کیا جائے گا۔ نتیجتاً، یہ پیش رفت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی نئی صف بندی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ سعودی عرب اب امریکی دباؤ کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرتا، بلکہ اپنے مفادات اور اصولوں کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔
-min.png)