ستائیسویں آئینی ترمیم سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور
پاکستان کی پارلیمنٹ نے آج دس نومبر 2025 کو انتہائی متنازع ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔ شام ساڑھے چھ بجے کے قریب شروع ہونے والے اجلاس میں وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے بل پیش کیا جسے 64 ووٹوں کی حمایت حاصل ہوئی جبکہ کوئی ووٹ مخالفت میں نہیں آیا۔ ایوانِ بالا میں منظوری کے فوراً بعد اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا، بل کی کاپیاں پھاڑیں اور ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ پی ٹی آئی، جے یو آئی ف، جماعت اسلامی اور دیگر اپوزیشن ارکان نے اسے "آئینی بغاوت" قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔یہ ترمیم پاکستان کے عدالتی اور فوجی ڈھانچے میں گہری تبدیلیاں لانے جا رہی ہے۔ سب سے اہم شق وفاقی آئینی عدالت کا قیام ہے جو سپریم کورٹ کے آئینی مقدمات کا بوجھ کم کرے گی۔ اس عدالت کے ججز کی تقرری اور تبادلہ جوڈیشل کمیشن کرے گا، جس سے پارلیمنٹ کو براہِ راست اختیار مل جائے گا۔
دوسری بڑی تبدیلی فوج کے ڈھانچے سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 243 میں ترمیم کے بعد آرمی چیف کا عہدہ "چیف آف ڈیفنس فورسز" میں تبدیل ہو جائے گا اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم ہو جائے گا۔ فیلڈ مارشل جیسے اعزازی رینک تاحیات ہوں گے۔صدر مملکت کو تاحیات قانونی استثنیٰ دیا گیا ہے جبکہ گورنرز کو عہدے کی مدت تک تحفظ ملے گا۔ ترمیم میں یہ بھی شامل ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز کی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ کو پیش کی جائے گی۔ حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات اداروں کو مضبوط کریں گی اور عدالتی نظام کو تیز تر بنائیں گی۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ ترمیم "جمہوریت کا قتل" ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔اب یہ بل قومی اسمبلی میں پیش ہوگا جہاں حکومتی اتحاد کے پاس واضح اکثریت موجود ہے۔ توقع ہے کہ کل یا پرسوں تک قومی اسمبلی سے بھی منظوری مل جائے گی، جس کے بعد صدر آصف علی زرداری اس پر دستخط کریں گے اور یہ آئین کا 27واں ترمیم بن جائے گا۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے بھی اس ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کے بعد پاکستان کا آئینی ڈھانچہ مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا اور طاقت کا توازن پارلیمنٹ اور فوج کے حق میں مزید جھک جائے گا۔
-min.png)