بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک بار پھر خطرناک دشت گرد حملہ
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے بالکل قریب، ریڈ فورٹ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر ون کے سامنے پارک ایک سفید رنگ کی ماروتی سوئفٹ کار میں زوردار دھماکہ ہوا جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ کار کے پرزے 200 میٹر تک گئے، قریبی تین گاڑیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں اور آس پاس کی دکانوں کے شیشے چھڑکنے لگے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس وحشیانہ دھماکے میں 8 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ 24 سے زائد زخمیوں کو فوری طور پر لوک نایک جئے پرکاش ہسپتال منتقل کیا گیا،ان میں سے پانچ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
دہلی فائر سروس کے ڈائریکٹر اتل گارگ نے میڈیا کو بتایا کہ شام سات بجے کنٹرول روم کو دھماکے کی کال موصول ہوئی اور 7 فائر ٹینڈرز فوراً روانہ کیے گئے۔ موقع پر پہنچنے والی این ایس جی اور دہلی پولیس اسپیشل سیل کی ٹیمیں دھماکے کی نوعیت جانچ رہی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کار میں کم از کم 5 کلو ار ڈی ایکس یا امونیم نائٹریٹ استعمال کیا گیا، جو ٹائم بم کی مدد سے پھٹایا گیا۔ گاڑی کا نمبر فرضی نکلا اور گاڑی 3 دن پہلے فرید آباد سے چوری ہوئی تھی۔واقعے کے فوراً بعد پورا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا۔
نئی دہلی، ممبئی، لکھنؤ اور اتر پردیش کے تمام بڑے شہروں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ تمام ایئرپورٹس، ریلوے اسٹیشنز اور بس اڈوں پر چیکنگ تین گنا بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب میٹرو سے مسافر باہر نکل رہے تھے اور سڑک پر ٹریفک رش تھا۔ ایک دکاندار نے بتایا، "اچانک آسمان ہلا، میں تین بار زمین پر گرا، جگہ جگہ خون اور جسم کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے، یہ منظر قیامت کا لگ رہا تھا۔"حالیہ فرید آباد سے 2900 کلو امونیم نائٹریٹ کی برآمدگی اور پنجاب میں گرفتار دہشت گرد ماڈیول کے بعد حکام کو دہشت گردی کا قوی شبہ ہے۔ وزیراعظم آفس نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور کل صبح دس بجے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ دہلی پولیس کمشنر سنجے اروڑا نے کہا، "ہم ہر زاویے سے تحقیقات کر رہے ہیں، جلد ہی ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔" اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر بھارت کے دارالحکومت کی سیکیورٹی پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
