ستائیسویں آئینی ترمیم شریعت اسلامیہ کے خلاف ہے

 ستائیسویں آئینی ترمیم شریعت اسلامیہ کے خلاف ہے

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-21.html

آج جو سینیٹ سے 27ویں ترمیم کا بل منظور ہوا ہے اس میں صدر اور آرمی چیف کو تاحیات استثنیٰ حاصل ہوگی یہ اسلام کے منافی ہے۔ اسلامی تعلیمات اور شریعت کے بنیادی اصولوں کے مطابق کوئی بھی فرد، خواہ وہ کتنا ہی بلند مقام پر کیوں نہ ہو، قانون اور عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ یہ اصول خلفائے راشدین کے دورِ حکومت سے واضح طور پر سامنے آتا ہے، جنہوں نے اپنی ذات کو ہر قسم کے استثنیٰ سے پاک رکھا اور عام آدمی کی طرح عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے۔

 حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے دور میں ایک عام عورت کی شکایت پر خود کو عدالت میں پیش کیا اور حضرت عثمان غنیؓ و حضرت علیؓ نے بھی اپنی ذات کو قانون سے ماورا سمجھنے سے سختی سے انکار کیا۔ ان عظیم شخصیات کی یہی سیرت آج بھی مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ حاکمِ وقت ہو یا کوئی عام شہری، سب قانون کے تابع ہیں۔پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جس کا آئین شریعت کے بنیادی احکام سے ہم آہنگ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

 آئین کا آرٹیکل 5 واضح کرتا ہے کہ وفاداریِ آئین و قانون ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں۔ اسی طرح آرٹیکل 25 قانون کے سامنے سب کو برابر قرار دیتا ہے۔ تاحیات کسی بھی شخص کو عدالتی احتساب سے مستثنیٰ قرار دینا نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہے بلکہ شریعت کے بنیادی اصولِ عدل و انصاف کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اے ایمان والو! انصاف قائم کرو، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ وہ تمہارے اپنے نفسوں یا ماں باپ اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔"
 (سورۃ النساء: 135)
 اس آیت سے واضح ہے کہ انصاف میں کوئی رعایت یا استثنیٰ جائز نہیں۔

اگر آج ملک میں کسی بھی سابق یا موجودہ عہدیدار کو تاحیات تحفظ قانونی کارروائی سے دیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف آئینی اصولوں کی پامالی ہوگی بلکہ قوم کے ضمیر پر ایک ناقابلِ معافی داغ بھی ہوگا۔ یہ عمل بدعنوانی، اقربا پروری اور آمریت کی راہ ہموار کرے گا، جس سے نہ صرف عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا بلکہ ملک کی ساکھ عالمی سطح پر بھی مجروح ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کیا، وہ کبھی ترقی نہ کر سکیں۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خلفائے راشدین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہر شخص کو قانون کے کٹہرے میں لائیں، تاکہ پاکستان واقعی ایک فلاحی، منصفانہ اور شریعت و آئین کے مطابق چلنے والی اسلامی جمہوریہ کہلائے۔ تاحیات استثنیٰ کا کوئی جواز نہیں، یہ شرمناک اور قوم کے مستقبل کے لیے زہرِ قاتل ہے۔


Previous Post Next Post

Contact Form