بنگلہ دیش کی سابقہ وزیر اعظم حسینہ واجد کو عدالت نے سزاۓ موت سنا دی

 بنگلہ دیش کی سابقہ وزیر اعظم حسینہ واجد کو عدالت نے سزاۓ موت سنا دی

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-32.html


ڈھاکہ کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل نے آج 17 نومبر 2025 کو بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو جرائمِ انسانیت کے الزام میں سزائے موت سنا دی۔ یہ تاریخی فیصلہ 2024 کے جولائی اور اگست میں ہونے والے طلباء کے پرتشدد احتجاج پر وحشیانہ کریک ڈاؤن سے متعلق ہے، جس میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چودہ سو سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ تین رکنی ججز پینل کے سربراہ جج گلاب مرتضٰی نے فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ شیخ حسینہ واجد نے احتجاجیوں کے خلاف طاقت کے غیر قانونی استعمال کا حکم دیا، ہلاکتوں کو روکنے میں ناکام رہیں اور منظم طریقے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سرپرستی کی۔ شیخ حسینہ واجد گزشتہ سال 5 اگست کو فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت بھاگ گئی تھیں اور اب نئی دہلی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔عدالت نے اسی کیس میں سابق وزیر داخلہ اسد خان کمال کو بھی سزائے موت اور سابق آئی جی پولیس چوہدری عبد اللہ المیمون کو پانچ سال قید کی سزا سنائی، جبکہ المیمون سٹیٹ وٹنس بن گئے تھے۔


 استغاثہ نے ثبوت پیش کیے کہ شیخ حسینہ نے 21 جولائی 2024 کو رات گئے وزیر داخلہ اور پولیس سربراہان کو فون کر کے کسی بھی قیمت پر احتجاج ختم کرنے کا واضح حکم دیا تھا، جس کے نتیجے میں پولیس، راب، بی جی بی اور عوامی لیگ کے مسلح کارکنوں نے مشترکہ آپریشن کیا۔ عدالت نے 87 گواہوں کے بیانات، ویڈیو فوٹیجز، واٹس ایپ چیٹس اور سرکاری دستاویزات کی بنیاد پر فیصلہ دیا۔ عدالت کے باہر موجود متاثرہ خاندانوں نے فیصلہ سنتے ہی تالیاں بجائیں اور انقلاب زندہ باد کے نعرے لگائے۔عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبل انعام یافتہ پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے فیصلے کو تاریخی انصاف قرار دیا اور کہا کہ آج بنگلہ دیش نے دنیا کو بتا دیا کہ کوئی بھی طاقتور شخص قانون سے بالاتر نہیں۔ انہوں نے بھارت سے شیخ حسینہ اور اسد الزمن خان کمال کی فوری حوالگی کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ سیاسی پناہ گزینوں کے معاملے میں اپنی پالیسی پر قائم ہے اور فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتی۔ شیخ حسینہ واجد نے نئی دہلی سے جاری کردہ ایک بیان میں فیصلے کو سیاسی انتقام اور غیر قانونی ٹریبیونل کا فیصلہ قرار دیا، جبکہ ان کی جماعت عوامی لیگ نے اسے عدالتی قتل کہا ہے۔یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب کسی سابق سربراہِ مملکت کو سزائے موت سنائی گئی ہو۔


 سال 2024 کے طلباء انقلاب نے نہ صرف 15 سالہ آمرانہ حکمرانی کا خاتمہ کیا بلکہ اب انصاف کے عمل کو بھی منطقی انجام تک پہنچا دیا۔ ملک بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ پر ہے اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلباء نے شہید منار پر شمعیں جلا کر متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ فروری 2026 کے متوقع عام انتخابات سے پہلے سیاسی منظرنامے کو مکمل تبدیل کر دے گا اور بنگلہ دیش اور بھارت تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔


Previous Post Next Post

Contact Form