تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا

 تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا



تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف کل 18 نومبر 2025 کو اسلام آباد میں ایک بڑے پرامن احتجاج کا اعلان کیا ہے جو صبح گیارہ بجے سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر سے شروع ہوگا۔ یہ احتجاج تحریک کے ترجمان اخنزادہ حسین یوسفزئی کی طرف سے کیا گیا اعلان ہے کہ مظاہرین سپریم کورٹ کو آئینی مقبرہ قرار دیتے ہوئے ستائیسویں ترمیم کا علامتی جنازہ نکالیں گے اور پھر پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ کریں گے۔ تحریک کا موقف ہے کہ 26ویں اور اب 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کو تباہ کر دیا گیا ہے اور 1973 کا آئین اپنی اصل روح سے محروم ہو چکا ہے۔ اس احتجاج میں پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)، جماعت اسلامی، مجلس وحدت مسلمین اور دیگر اتحادی جماعتیں شریک ہوں گی۔ پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک نے تمام ٹکٹ ہولڈرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ کم از کم چار وکلاء کے ہمراہ ضرور پہنچیں جبکہ پارٹی کے نارتھ ریجن کے عہدیداروں کو بھی وقت کی پابندی کا خصوصی حکم دیا گیا ہے۔


احتجاج کے شرکاء میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین، سینئر وکلاء، سول سوسائٹی کے نمائندے اور ہزاروں کارکن شامل ہونے کی توقع ہے۔ تحریک کے رہنماﺅں نے واضح کیا ہے کہ یہ مظاہرہ مکمل طور پر پرامن رہے گا اور اس کا مقصد صرف اور صرف آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کو بحال کرنا ہے۔ سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ یہ تحریک وکلاء، صحافیوں، طلبہ اور عوام الناس کی مشترکہ آواز ہے جو آئین کے ساتھ کی گئی غداری کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری طرف وائس چیئرمین سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکلیں اور مظلوم عدلیہ کی حمایت میں سڑکوں پر آئیں۔ احتجاج کے بعد شرکاء اڈیالہ جیل کے باہر بھی جمع ہوں گے جہاں وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی سے یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے نہ صرف آئینی بنچز کی تشکیل کا طریقہ کار بدل دیا بلکہ چیف جسٹس کی تقرری اور ججوں کی تعیناتی میں پارلیمانی کمیٹی کو غیر معمولی اختیارات دے کر عدلیہ کو کمزور کر دیا گیا ہے۔


 تحریکِ تحفظ آئین اسے آئین کا قتل قرار دے رہی ہے اور مطالبہ کر رہی ہے کہ دونوں متنازع ترامیم کو فوری واپس لیا جائے اور 1973 کے آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کل کا احتجاج موجودہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر جب سپریم کورٹ میں 26ویں اور 27ویں ترمیم کے خلاف متعدد درخواستیں زیرِ سماعت ہیں۔اسلام آباد انتظامیہ نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے ہیں اور ریڈ زون کو کنٹینرز سے بند کرنے کا امکان ہے۔ تاہم تحریک کے رہنماﺅں نے یقین دلایا ہے کہ وہ قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے اور پرامن احتجاج ہی ان کا ہتھیار ہے۔ کل صبح گیارہ بجے سپریم کورٹ کے باہر جو کچھ ہوگا، وہ نہ صرف پاکستان کی عدلیہ کی آزادی بلکہ جمہوریت کے مستقبل کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔


Previous Post Next Post

Contact Form