پاکستان کا حماس کو ختم کرنے والے امریکہ منصوبے کے حق میں ووٹ جبکہ چین کی مخالفت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 18 نومبر 2025 کو ایک قرارداد منظور کی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ بیس نکاتی غزہ امن پلان کو 13 ووٹوں سے منظوری دے دی گئی جبکہ روس اور چین نے ابسٹینشن اختیار کیا اور کوئی رکن ملک مخالف ووٹ نہیں ڈالا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سلامتی کونسل کی تاریخ میں پاکستان نے چین کے برعکس امریکہ کے حق میں ووٹ دیا۔ پاکستان کے علاوہ قطر، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، انڈونیشیا اور ترکی سمیت متعدد مسلم اور عرب ممالک نے بھی اس پلان کی حمایت کی۔ یہ ووٹ غزہ میں جاری دو سالہ تباہ کن جنگ کے بعد سیز فائر کو مستقل بنانے اور علاقے کی تعمیر نو کا راستہ کھولتا ہے مگر اسے شدید تنقید کا بھی سامنا ہے۔ٹرمپ کا یہ پلان غزہ کو "ہیل آن ارتھ" سے نکال کر ایک محفوظ اور خوشحال علاقے میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کے اہم نکات میں ایک انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) کی تعیناتی شامل ہے جو امریکی سرپرستی میں کام کرے گی اور اس میں پاکستان، انڈونیشیا، ترکی سمیت مسلم ممالک کے فوجی دستے شامل ہوں گے۔ یہ فورس حماس کی فوجی ڈھانچے کو ختم کرنے، اسلحہ ضبط کرنے اور سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائے گی۔
دوسری طرف ایک "بورڈ آف پیس" قائم کیا جائے گا جس کی صدارت خود صدر ٹرمپ کریں گے اور یہ غزہ کی تعمیر نو کی نگرانی کرے گا جو 2028 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ پلان میں غزہ کو گرین زون اور ریڈ زون میں تقسیم کرنے کا بھی ذکر ہے جسے بعض ناقدین غزہ کو تفریحی مقام بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔فلسطینی ریاست کے بارے میں پلان میں واضح لیکن مشروط زبان استعمال کی گئی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات، حماس کا مکمل خاتمہ اور علاقے کی مکمل ڈی ملٹریائزیشن کے بعد ہی فلسطینیوں کو خودمختاری یا ریاست کی طرف بڑھنے کی اجازت ہوگی۔ حماس نے اس پلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقبوضہ فورسز کو ان کے خلاف استعمال کرنے کی سازش ہے اور فلسطینی مزاحمت کو کچلنے کا منصوبہ ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے اگرچہ پلان کا خیرمقدم کیا ہے مگر اس پر زور دیا ہے کہ فلسطینی کمیٹی کو مرکزی کردار دیا جائے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے قرارداد کو سراہا ہے مگر ان کی دائیں بازو کی اتحادی جماعتیں فلسطینی ریاست کی کسی بھی صورت کو مسترد کر رہی ہیں۔پاکستان کی حمایت کو خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستانی سفیر نے ووٹ کے بعد کہا کہ غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت کے بعد امید کی کوئی کرن قبول کرنا ضروری تھی۔ چین اور روس نے کہا کہ قرارداد میں فلسطینی ریاست کی واضح حمایت نہیں اور امریکی بورڈ کو غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پلان اگرچہ جنگ بندی کو مستحکم کر سکتا ہے مگر یہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دینے سے گریز کرتا ہے اور فلسطینیوں کی خود ارادیت کو امریکی اور اسرائیلی شرائط سے مشروط کر دیتا ہے۔آخر میں یہ سوال ابھی کھلا ہے کہ کیا یہ پلان غزہ کے لیے حقیقی امن لائے گا یا یہ ایک نئی شکل میں نوآبادیاتی کنٹرول قائم کر دے گا۔ مسلم ممالک کی فوج کا غزہ میں تعینات ہونا تاریخی ہے مگر ساتھ ہی یہ خطرہ بھی ہے کہ وہ حماس کے خلاف کارروائی میں ملوث ہو جائیں جس سے علاقائی سیاست مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
