عمران خان کی بہنوں کا اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا جاری، پولیس مذاکرات ناکام، آپریشن کی تیاریاں مکمل
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر ایک بار پھر سیاسی درجہ حرارت بلند ہو گیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین خان فیکٹری ناکے پر دھرنا دے کر بیٹھ گئیں۔ منگل 18 نومبر 2025 کی شام کو شروع ہونے والا یہ احتجاج عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر کیا گیا۔ علیمہ خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کارکنوں نے سڑک بلاک کر دی اور نعرے بازی شروع کر دی، جس سے راولپنڈی اور اسلام آباد شاہراہ پر ٹریفک کا شدید مسئلہ پیدا ہو گیا۔دھرنے کے آغاز سے ہی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ خاتون پولیس اہلکاروں نے علیمہ خان اور دیگر خواتین سے بات چیت کی مگر وہ کسی صورت ہٹنے پر تیار نہ ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق ایک ایس ایچ او نے عدالتی حکم کو ماننے سے صاف انکار کر دیا، جس پر علیمہ خان برہم ہو گئیں اور کہا کہ ہمارے بھائی کو سات ماہ سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، جب تک ملاقات نہ ہو ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔پولیس نے مذاکرات کی متعدد کوششیں کیں مگر ناکامی کے بعد اب آپریشن سمیت دیگر سخت آپشنز پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔
راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری، واٹر کینن اور پرزن وینز جیل کے قریب تعینات کر دی گئی ہیں۔ ماضی میں بھی اپریل اور جون 2025 میں اسی طرح کے احتجاج کے دوران عمران خان کی بہنوں کو حراست میں لے کر لاہور یا اسلام آباد سے دور چھوڑا گیا تھا مگر وہ چند گھنٹوں میں واپس اڈیالہ پہنچ جاتی رہی ہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ، شیخ رشید کی بھتیجی غزالہ سلیم، سبین یونس، معین قریشی سمیت درجنوں کارکن اور خواتین بہنوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہیں۔ علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ قید تنہائی نہیں، عمران خان کو مکمل طور پر آئیسولیٹ کرنے کی سازش ہے۔
عدالتی حکم ہے کہ ہفتے میں دو بار ملاقات ہو گی مگر سات ماہ سے ہم اپنے بھائی کا چہرہ تک نہیں دیکھ سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر پولیس نے رات گئے آپریشن کیا تو صورتحال خراب بھی ہو سکتی ہے کیونکہ کارکنوں نے جان دے دیں گے مگر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دوسری طرف حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطح پر صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔یہ احتجاج صرف خاندانی ملاقات کا معاملہ نہیں رہا بلکہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی، قید تنہائی اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ رویے کا ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ اگر معاملات حل نہ ہوئے تو آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کی طرف سے پورے ملک میں احتجاج کا اعلان بھی متوقع ہے۔ فی الحال اڈیالہ جیل کے باہر کشیدگی عروج پر ہے اور اگلے ایک دو گھنٹہ فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔
