شریف خاندان کی سیاست اور پاکستان کا نقصان

 شریف خاندان کی سیاست اور پاکستان کا نقصان 

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-36.html


حال ہی میں ریلیز ہونے والی دستاویزی فلم گاڈ فادر، شریف خاندان نے کیسے بنائی سب سے طاقتور سلطنت، نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ گزشتہ پچاس سالوں میں پاکستان کی اصل سیاست عوام کے ووٹ سے نہیں، بلکہ ایک خاندان کی طاقت، دولت اور اداروں پر گرفت سے چلتی رہی ہے۔ یہ فلم شریف خاندان کی کرپشن، منی لانڈرنگ، اداروں پر قبضے اور جمہوریت کے قتل کی ایسی داستان بیان کرتی ہے جو پہلے بھی سامنے آتی رہی ہے، لیکن اب منظم ثبوتوں کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔فلم کے مطابق 1991 سے 2023 تک پاکستان کے تقریباً ہر آرمی چیف کی تقرری میں نواز شریف کا براہِ راست یا بالواسطہ کردار رہا۔ جنرل وحید کاکڑ سے لے کر جنرل عاصم منیر تک  کوئی بھی سربراہِ افواجِ پاکستان ان کی رضامندی کے بغیر نہیں آیا۔ نواز شریف واحد سویلین لیڈر ہیں جس نے حاضر سروس آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ یہ طاقت کا کھلا اظہار تھا کہ فوج بھی ان کے سامنے جھک جاتی ہے جبکہ دوسری طرف وہی فوج انہیں گھر بھیجتی رہی۔

 یہ کھیل ڈیلوں، دھمکیوں اور مفادات کا رہا جس نے فوج کو بھی سیاسی کھڈے میں دھکیل دیا۔کرپشن کے الزامات کوئی نئے نہیں۔ پاناما پیپرز، چوہدری شوگر ملز کیس، توشہ خانہ گفٹس سکینڈل، ایون فیلڈ ریفرنس اور ایف آئی اے کی 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ رپورٹ، فلم میں دکھایا گیا ہے کہ 2008 سے 2018 تک شہباز شریف خاندان سے منسلک اکاؤنٹس میں 1800 سے زائد مشکوک فارن ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ جعلی اکاؤنٹس کم تنخواہ والے ملازمین کے نام پر کھولے گئے، ٹیلی گرافک ٹرانسفرز سے اربوں روپے باہر بھیجے گئے اور ایک زمین دوز مالیاتی نیٹ ورک قائم کیا گیا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب خاندان برسرِ اقتدار تھا یا پنجاب پر مکمل کنٹرول رکھتا تھا۔سب سے بڑا نقصان پاکستان کی جمہوریت کو پہنچا۔ جب ایک خاندان قانون، عدلیہ، میڈیا اور فوج کو کنٹرول کر لے تو ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ پنجاب پولیس، بیوروکریسی، ڈی ایل او سسٹم، ترقیاتی فنڈز، حتیٰ کہ تھانہ کلچر تک شریف خاندان کے وفاداروں کے ہاتھ میں رہا۔ شریف خاندان کے مخالف سیاسی جماعتیں، چاہے پی ٹی آئی ہو یا کوئی اور دوسری سیاسی جماعت، شریف خاندان نے انھیں ہمیشہ طاقت اور اداروں کے زور سے کچلنے کی کوشش کی ہے، اداروں کی تباہی الگ درد ہے۔ 

جب وزیرِاعظم خود قانون توڑے، ججز کو دھمکائے، این آر او لے اور دے، تو عدلیہ کیسے آزاد رہ سکتی ہے؟ جب وزیرِاعلیٰ پنجاب منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے باہر بھیجے تو ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کیسے کام کر سکتا ہے؟ نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل تو آیا، لیکن منی لانڈرنگ کا اصل نیٹ ورک اب بھی زندہ ہے۔”گاڈ فادر: شریف خاندان نے کیسے بنائی سب سے طاقتور سلطنت“ یہ پیغام دیتی ہے کہ شریف خاندان نے نہ صرف پیسہ بنایا، بلکہ پورا نظام ہی اپنی جاگیر بنا لیا۔ انہوں نے جمہوریت کو خاندانی کاروبار، قانون کو کھلونا اور اداروں کو ذاتی ملازم بنا دیا۔ جب تک یہ خاندانی سیاست ختم نہیں ہوتی، پاکستان میں نہ حقیقی جمہوریت آ سکے گی، نہ ادارے مضبوط ہوں گے اور نہ معیشت کھڑی ہو سکے گی۔یہ فلم کوئی نئی انکشاف نہیں، بلکہ پرانے زخموں پر نمک ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اب بھی ایک خاندان کی جاگیر بنا رہے گا یا آخر کار عوام، قانون اور ادارے اپنا حق لے سکیں گے؟



Previous Post Next Post

Contact Form