تربیلا ڈیم کی مٹی میں 636 ارب ڈالر مالیت کا سونا، حنیف گوہر کا بڑا انکشاف

 تربیلا ڈیم کی مٹی میں 636 ارب ڈالر مالیت کا سونا، حنیف گوہر کا بڑا انکشاف 

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/pakistan-news-8.html


پاکستان کی معیشت کو ایک نئی امید کی کرن مل سکتی ہے، ایئر کراچی کے چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس (ایف پی سی سی آئی) کے سابق نائب صدر حنیف گوہر نے حیران کن انکشاف کیا ہے کہ تربیلا ڈیم کی مٹی میں تقریباً 636 ارب ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ یہ رقم پاکستان کے تمام اندرونی و بیرونی قرضوں (جو تقریباً 130 ارب ڈالر کے قریب ہیں) کو ادا کرنے کے لیے کافی ہے۔ 

یہ دعویٰ 3 نومبر 2025 کو کراچی پریس کلب میں میڈیا بریفنگ کے دوران سامنے آیا، اور اب یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔حنیف گوہر کے مطابق ان کی ٹیم نے غوطہ خوروں کی مدد سے تربیلا ڈیم کے اندر سے مٹی کے نمونے اکٹھے کیے۔ ان نمونوں کو لیبارٹری میں جانچا گیا، جہاں سونے کے ذرات کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ۔مٹی میں سونے کی آمیزش کی شرح کو ڈیم کے متاثرہ علاقے کی کیوبک فٹ سے ضرب دے کر کل مالیت 636 ارب ڈالر نکالی گئی۔ تخمینہ ہے کہ یہاں سے 12,000 ٹن سونا نکالا جا سکتا ہے، جس کی لاگت کل قیمت کا صرف 20 فیصد ہوگی۔  

حنیف گوہر نے واپڈا کو خط لکھ کر یہ پروجیکٹ سنبھالنے کی پیشکش کی ہے۔ اگر واپڈا نہ کرے تو ان کی کمپنی خود سرمایہ کاری کر کے سونا نکالے گی اور ملک کے حوالے کر دے گی۔  انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس پر بریفنگ دی جا چکی ہے، اور آرمی چیف نے فوری مثبت جواب دیا ہے۔

تربیلا ڈیم، جو 1976 میں تعمیر ہوا اور دنیا کا سب سے بڑا مٹی کا ڈیم ہے، دریائے سندھ پر واقع ہے۔ یہ پانی اور بجلی کی پیداوار میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، لیکن مٹی اور ریت کی وجہ سے اس کی گنجائش میں 40 فیصد کمی آ چکی ہے اگر سونے کی موجودگی ثابت ہو جائے تو یہ نہ صرف معاشی انقلاب لائے گا بلکہ ڈیم کی صفائی کا ایک منافع بخش طریقہ بھی بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دریاؤں کی مٹی میں سونے کے ذرات قدرتی طور پر جمع ہوتے ہیں، جیسا کہ دنیا بھر میں کئی جگہوں پر دیکھا گیا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق اور نکالنے کی تکنیکی چیلنجز (جیسے ڈیم کی تعمیراتی رکاوٹیں) ابھی باقی ہیں۔


Previous Post Next Post

Contact Form