پاکستان میں مہنگائی کی شرح اکتوبر 2025 میں ایک سال کی بلند ترین سطح 6.2 فیصد پر پہنچ گئی
پاکستان میں مہنگائی کی شرح اکتوبر 2025 میں ایک سال کی بلند ترین سطح 6.2 فیصد پر پہنچ گئی، جو کہ ستمبر کے 5.6 فیصد سے نمایاں اضافہ ہے اور حکومتی اندازوں یعنی پانچ سے چھ فیصد کے تخمینے سے بھی تجاوز کر گئی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق، یہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کا سب سے بڑا اضافہ ہے، جبکہ ماہانہ بنیاد پر مہنگائی 1.8 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ ماہ کے 2 فیصد سے کچھ کم ضرور ہے مگر مجموعی طور پر معاشی دباؤ کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
حالیہ سیلابوں نے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا، سپلائی چین متاثر ہوئی اور خوراک، ٹرانسپورٹ اور ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، جس سے عام شہری کی خریداری کی طاقت میں واضح کمی آئی ہے۔ شہری علاقوں میں مہنگائی 6 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 6.6 فیصد تک پہنچ گئی، اور مالی سال 2025-26 کے پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کی اوسط مہنگائی 4.73 فیصد رہی۔یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ ایک سال قبل اکتوبر 2024 میں مہنگائی کی شرح صرف 1.2 فیصد تھی، جو موجودہ اضافے کی شدت کو واضح کرتی ہے۔
وزارت خزانہ نے اکتوبر کے لیے 5 سے 6 فیصد کا تخمینہ لگایا تھا مگر حقیقی اعدادوشمار اس سے کہیں اوپر نکل گئے، جس نے حکومتی معاشی منصوبہ بندی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیلابوں کے اثرات برقرار رہے تو نومبر اور دسمبر میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف، بجٹ خسارے اور قرضوں کی ادائیگی کو مزید مشکل بنا دے گی۔ غریب اور متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، اور حکومت کو فوری طور پر سبسڈیز، درآمدات کی حوصلہ افزائی اور سپلائی مینجمنٹ کے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ استحکام لایا جا سکے۔
-min.png)