انڈین فائٹر جیٹ تیزس حادثے کا شکار کیسے ہوا ؟

 انڈین فائٹر جیٹ تیزس حادثے کا شکار کیسے ہوا ؟

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/11/world-news-8.html


دبئی ایئر شو میں 22 نومبر کو ایک دلخراش حادثہ پیش آیا جب بھارتی فضائیہ کا جدید مقامی فائٹر جیٹ "تیزس" ہوائی ڈسپلے کے دوران گر کر تباہ ہو گیا اور اس کے واحد پائلٹ، ونگ کمانڈر نمنش سِیال ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ دوپہر قریب ڈھائی بجے ال مکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہوا، جہاں ہزاروں ناظرین موجود تھے۔ تیزس نے ٹیک آف کے چند سیکنڈ بعد ہی اپنا مشہور نیگیٹو جی منوور شروع کیا، لیکن کم اونچائی پر جہاز نے اچانک کنٹرول کھو دیا اور رول کرتے ہوئے زمین سے ٹکرایا اور شدید دھماکے کے ساتھ شعلوں میں تبدیل ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق جہاز سے گھنا سیاہ دھواں بلند ہوا اور دھماکے کی آواز دور دور تک گونجی۔ سب سے افسوسناک بات یہ رہی کہ پائلٹ نے ایجیکشن سیٹ استعمال کرنے کی کوئی کوشش نہ کی، جس سے فوری موت کی تصدیق ہو گئی۔ونگ کمانڈر نمنش سِیال 34 سالہ تجربہ کار پائلٹ تھے، جو ہماچل پردیش کے ضلع کانگڑہ کے گاؤں پٹیال کار سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ حال ہی میں گروپ کیپٹن کے عہدے پر ترقی کے قریب تھے اور ان کی اہلیہ بھی انڈین ایئر فورس میں افسر ہیں۔ ان کے پیچھے ایک چھ سالہ بیٹی، والدین اور پورا غم زدہ گاؤں چھوڑ گئے۔


 ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو سمیت کئی سیاسی اور فوجی شخصیات نے ان کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ بھارتی فضائیہ نے فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی کورٹ آف انکوائری قائم کر دی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی بھی مشترکہ تحقیقات میں شامل ہے۔ ابتدائی تجزیوں میں تکنیکی خرابی، انجن کی ناکامی، یا پائلٹ ان پٹ کے غلط ہونے کے امکانات زیرِ غور ہیں۔یہ تیزس طیارے کا دوسرا بڑا حادثہ ہے، اس سے قبل مارچ 2024 میں راجستھان کے جیسل میر میں بھی ایک تیزس گرا تھا، لیکن اس وقت پائلٹ محفوظ نکل گئے تھے۔ حالیہ دنوں میں بھارتی حکومت نے 97 تیزس جیٹس کے لیے 48 ہزار کروڑ روپے کی خریداری کی منظوری دی تھی، جس سے یہ طیارہ انڈین ایئر فورس کے مگ اکیس فلیٹ کی جگہ لینے والا اہم ہتھیار سمجھا جا رہا تھا۔ دبئی ایئر شو میں یہ پہلی بار تھا کہ تیزس بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہا تھا، اور اس کی تباہی نہ صرف بھارتی دفاعی صنعت بلکہ "میک اِن انڈیا" مہم کے لیے بھی بڑا دھچکا ہے۔


حادثے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں، جس میں واضح دکھائی دیتا ہے کہ جہاز نے کم اونچائی پر رول شروع کیا اور ریکوری کا موقع ہی نہ ملا۔ کئی ناظرین نے بتایا کہ وہ پہلے تو یہ سمجھے کہ یہ ڈرامائی منوور کا حصہ ہے، لیکن چند سیکنڈ بعد ہی سب کچھ شعلوں میں ڈوب گیا۔ دبئی حکومت نے فوری طور پر ایمرجنسی ٹیمیں روانہ کیں اور 45 منٹ میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ ایئر شو کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا اور ناظرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ابھی تک حتمی رپورٹ آنا باقی ہے، لیکن یہ واقعہ بھارتی فضائیہ اور ایچ اے ایل کے لیے ایک سخت امتحان ہے۔ کیا یہ حادثہ محض انسانی یا تکنیکی غلطی تھی، یا تیزس کے ڈیزائن میں کوئی بنیادی خامی موجود ہے؟ اگلے چند ہفتوں میں تحقیقات کے نتائج اس سوال کا جواب دیں گے۔


Previous Post Next Post

Contact Form