غزہ پر اسرائیل کا پھر حملہ، جنگ بندی خطرے میں اور امت مسلمہ خاموش
غزہ کی پٹی میں جمعرات کی صبح ایک بار پھر خونریزی ہوئی جب اسرائیلی فوج نے خان یونس شہر اور اس کے مضافات میں متعدد فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینی شہید اور اٹھارہ زخمی ہوئے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق شہید ہونے والوں میں حماس کے سینئر فیلڈ کمانڈرز بھی شامل ہیں اور ان کے علاوہ حماس نیول فورسز کے سربراہ کا نام زیرِ گردش ہیں۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی حماس کی طرف سے جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کے فوری جواب میں کی گئی، جو جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی تھی۔ دوسری جانب حماس نے اسرائیلی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان حملوں کو جنگ بندی کو مکمل طور پر دفن کرنے کی منظم کوشش قرار دیا ہے۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن عزت الرشق نے کہا کہ صہیونی دشمن جھوٹے بہانوں سے اپنے جرائم کو جواز فراہم کر رہا ہے اور غزہ میں قتل عام دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔یہ واقعات اس جنگ بندی کے لیے بہت بڑا دھچکا ہیں جو 10 اکتوبر 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ثالثی میں طے پائی تھی۔ اس معاہدے کے تحت حماس نے مرحلہ وار اسرائیلی یرغمالوں کی لاشیں واپس کرنے اور زندہ افراد کو رہا کرنے کا وعدہ کیا تھا جبکہ اسرائیل نے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں امداد کی راہ ہموار کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم جنگ بندی کے صرف چھ ہفتوں میں ہی غزہ میں 312 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 29 اکتوبر کو ایک ہی دن میں 100 سے زیادہ افراد شامل ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس دوران حماس کے حملوں میں اس کے تین فوجی بھی مارے گئے۔قطر نے اسرائیلی حملوں کو وحشیانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ثالثی ٹیموں کو متحرک کر دیا ہے۔ قاہرہ اور دوحہ میں بیک چینل رابطے دوبارہ شروع ہو گئے ہیں تاکہ جنگ بندی کو بچایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ پیر کو ٹرمپ کے مجوزہ غزہ استحکام پلان کی توثیق کی تھی، جس میں غزہ پر بین الاقوامی فورس کی نگرانی، حماس کا مکمل غیر مسلح ہونا اور دو ریاستی حل کی طرف پیش رفت شامل تھی۔ حماس نے اس پلان کے غیر مسلح ہونے والے حصے کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ہتھیار ڈالنا فلسطینی قوم کی خودکشی ہو گی۔ماہرینِ امورِ مشرق وسطیٰ کا کہنا ہے کہ موجودہ تصعید نہ صرف غزہ بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی بھی نازک مراحل میں ہے۔ غزہ میں سردیوں کا آغاز ہو چکا ہے، خیموں میں رہنے والے 19 لاکھ بے گھر فلسطینیوں کے لیے قحط اور بیماریاں بڑا خطرہ بن رہی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر امداد نہ پہنچی تو اگلے چند ہفتوں میں ہزاروں بچے غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کیا یہ حملے جنگ بندی کا خاتمہ ہیں یا دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آ سکیں گے۔ البتہ ایک بات طے ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس جنگ نے اب تک 69,000 سے زائد فلسطینیوں کی جانیں لے لی ہیں، جن میں 20,000 سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ تازہ خونریزی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ غزہ میں امن ابھی دور ہے۔
-min.png)