چیف آف ڈیفنس کے نوٹیفکیشن نا ہونے کی اصل وجہ سامنے آچکی ہے

 چیف آف ڈیفنس کے نوٹیفکیشن نا ہونے کی اصل وجہ سامنے آچکی ہے


https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/12/pakistan-news-47.html


پاکستان کی فوجی قیادت کے سب سے اہم عہدے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کی تقرری کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہ ہونے کی اصل وجہ سامنے آ گئی ہے۔ معتبر ذرائع اور سرکاری حلقوں سے ملنے والی معلومات کے مطابق وفاقی حکومت کا اصولی موقف ہے کہ نیا بننے والا یہ عہدہ آرمی چیف کے ساتھ نتھی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا مکمل اختیار براہِ راست منتخب وزیراعظم کے پاس رہنا چاہیے۔ اسی اختلاف کی وجہ سے 29 نومبر 2025 کو جنرل عاصم منیر کی آرمی چیف کی حیثیت سے تین سالہ مدت مکمل ہونے کے باوجود سی ڈی ایف کے طور پر ان کی پانچ سالہ تقرری کا نوٹیفکیشن روک دیا گیا ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم اور 2024 کی آرمی ایکٹ ترامیم کے تحت بننے والا سی ڈی ایف کا عہدہ دراصل چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کی جگہ لے رہا ہے، لیکن اس کی حیثیت اور اختیارات کو آرمی چیف سے الگ رکھنا ضروری ہے تاکہ سول بالادستی برقرار رہے۔ حکومت کے نزدیک اگر سی ڈی ایف اور آرمی چیف ایک ہی شخص رہے تو تینوں مسلح افواج پر ایک فرد کا کنٹرول بہت زیادہ ہو جائے گا جو آئینی توازن کے خلاف ہے۔ اسی لیے کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن پر دستخط سے قبل حتمی قانونی اور آئینی رائے مانگی ہے۔


دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی لندن اور بحرین کی سرکاری دورے پر غیر موجودگی نے بھی اس تاخیر کو ہوا دی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ دورہ جان بوجھ کر طے کیا گیا تاکہ نوٹیفکیشن پر فوری دستخط نہ کرنے پڑیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم یکم دسمبر 2025 کو واپس آئیں گے اور اس کے فوراً بعد نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا،مگر آج دو دسمبر بھی گزر چکا ہے اور ابھی تک نوٹیفکیشن نہیں ہوا۔ حکومتی حلقوں میں اب بھی یہ بحث جاری ہے کہ کیا سی ڈی ایف کا عہدہ آرمی چیف سے الگ کیا جائے یا نہیں۔فوجی حلقوں کا موقف بالکل برعکس ہے۔ ان کے نزدیک سی ڈی ایف کو تینوں افواج کا مشترکہ سربراہ ہونا چاہیے اور اسے آرمی چیف ہی سنبھالے تو آپریشنل ہم آہنگی بہتر رہے گی، خاص طور پر نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول کے معاملے میں، قانونی ماہرین کے مطابق 2024 کی ترامیم میں شامل ڈیمنگ کلاز کی وجہ سے جنرل عاصم منیر کی مدت خود بخود پانچ سال ہو چکی ہے، لیکن نئے عہدے کے لیے الگ سے نوٹیفکیشن ضروری ہے۔


اس تمام صورتحال نے سول ملٹری تعلقات میں ایک نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اسے حکومت کی کمزوری قرار دے رہی ہیں جبکہ کچھ تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ یہ سول بالادستی بحال کرنے کی آخری کوشش ہے۔ فی الحال ملک ایک غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے جہاں فوج کا سب سے سینئر عہدہ تکنیکی طور پر خالی سمجھا جا رہا ہے اور اس کا اثر نہ صرف اندرونی سلامتی بلکہ علاقائی استحکام پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اگلے چند دنوں میں  اس معاملے کا فیصلہ متوقع ہے، لیکن جو بھی نتیجہ نکلے، یہ پاکستان کے سول ملٹری توازن کی نئی تاریخ رقم کرے گا۔


Previous Post Next Post

Contact Form