خیبرپختونخوا میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

 خیبرپختونخوا  میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/12/pakistan-news-48.html


خیبرپختونخوا میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن  شروع کر دیا ہے ۔ یکم دسمبر ۲۰۲۵ سے پشاور، کوہاٹ، مردان، ہری پور، نوشہرہ اور دیگر اضلاع میں پولیس اور مقامی انتظامیہ نے مشترکہ آپریشنز شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ چند روز میں سینکڑوں افغان شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ متعدد خاندانوں کو تورخم اور چمن سرحد کے راستے افغانستان واپس بھیج دیا گیا ہے۔


یہ کارروائی دراصل وفاقی کابینہ کے اس فیصلے کا تسلسل ہے جو جولائی ۲۰۲۵ میں کیا گیا تھا کہ تمام بغیر دستاویزات والے غیر ملکی یکم اپریل ۲۰۲۵ تک رضاکارانہ طور پر وطن واپس جائیں، ورنہ زبردستی ملک بدر کیے جائیں گے۔ اس آخری تاریخ کے گزرنے کے بعد اب مرحلہ وار کریک ڈاؤن کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق اگست ۲۰۲۵ سے اب تک تقریباً گیارہ لاکھ دس ہزار افغان شہری واپس جا چکے ہیں، جن میں سے تین لاکھ کے قریب کو زبردستی ملک بدر کیا گیا۔ صرف نومبر ۲۰۲۵ میں ایک دن میں پانچ ہزار سے زائد افراد تورخم سے واپس گئ۔


خیبرپختونخوا میں صورتِ حال اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ یہاں اب بھی تقریباً تیرہ لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین اور سات لاکھ افغان شہری کارڈ رکھنے والے افراد موجود ہیں۔ وفاقی حکومت نے اٹھائیس افغان مہاجر کیمپوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے اور ان کیمپوں میں رہنے والے خاندانوں کو بھی واپسی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ پشاور کے علاقوں جیسے بورڈ بازار، حیات آباد، رنگ روڈ اور کوہاٹ روڈ پر چھاپوں کے دوران دکانیں، ہوٹل اور رہائشی مقامات کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ متعدد افغان تاجر اور مزدوروں نے بتایا کہ ان کے گھروں پر رات کو چھاپے مارے جا رہے ہیں اور دستاویزات نہ ہونے پر فوری گرفتاری ہو جاتی ہے۔دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ کے مہاجرین کے ادارے (یو این ایچ سی آر) اس کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد معاشی اور سیکورٹی صورتِ حال اب بھی غیر مستحکم ہے اور زبردستی واپسی سے لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ کچھ سیاسی حلقوں بالخصوص پاکستان تحریکِ انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ قانونی دستاویزات رکھنے والے افراد کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے جو صوبے میں نفرت اور عدمِ اعتماد کو بڑھاوا دے گا۔ تاہم وفاقی حکومت کا موقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات میں ملوث افراد میں غیر ملکیوں کی موجودگی اور سرحد کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔اگلے چند ہفتوں میں یہ کریک ڈاؤن مزید شدت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ ہر تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کو اپنے علاقے سے غیر قانونی افغان شہریوں کی فہرست تیار کر کے واپسی یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔


اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کارروائی پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو کس حد تک متاثر کرتی ہے اور خیبرپختونخوا کی معیشت، جو کئی دہائیوں سے افغان مزدوروں اور تاجروں پر انحصار کرتی رہی ہے، اس سے کیسے نمٹتی ہے۔


Previous Post Next Post

Contact Form