بیرسٹر گوہر کا بڑا بیان ملک میں سیاسی حالات سخت کشیدہ ہوچکے ہیں
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے آج 9 دسمبر 2025 کو ایک انتہائی اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی حالات اس قدر کشیدہ ہو چکے ہیں کہ اب مزید کسی قسم کا انتشار یا تصادم برداشت کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ سیاسی جماعتیں اور ایک بڑا ادارہ اگر آپس میں لڑتے رہے تو اس کا نقصان صرف ایک فریق کو نہیں بلکہ پوری قوم، ریاست اور جمہوریت کو ہوگا۔ بیرسٹر گوہر کا یہ بیان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل کی 5 دسمبر والی پریس کانفرنس کے فوراً بعد سامنے آیا، جس میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں پر کھل کر تنقید کی گئی تھی۔
گوہر نے اس بریفنگ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاست میں ایک دوسرے کو غلط اور گالم گلوچ والے الفاظ سے پکارنا کبھی درست نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ روایت پاکستان کی سیاست کا حصہ رہی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اگر واقعی حالات کو بہتر کرنا ہے تو سب سے پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے جیل میں ملاقاتیں بحال کی جائیں۔ گوہر کے مطابق جب تک قیادت سے براہ راست رابطہ اور بات چیت کا راستہ بند رہے گا، سیاسی تناؤ میں کمی ناممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کبھی بھی ریاست مخالف بیانیہ نہیں رکھتے، نہ پارٹی کا کوئی لیڈر اس راہ پر چلا، اور نہ ہی مستقبل میں چلے گا۔ انہوں نے تمام جمہوریت پسند قوتوں سے اپیل کی کہ وہ اس کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ اگر تلواریں نکال لی گئیں اور آمنے سامنے کھڑے ہو گئے تو نہ کوئی جیتے گا، نہ کوئی ہارے گا، بلکہ سب ہار جائیں گے۔
بیرسٹر گوہر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کل بروز بدھ کو پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کا ایک اہم اجلاس ہوگا، جس میں موجودہ صورتحال اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 7 دسمبر کو پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر کو پارٹی چیئرمین تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس پر گوہر نے کہا کہ پارٹی قانونی جنگ لڑے گی اور حق ضرور حاصل کرے گی۔ ماہرینِ سیاسیات کے مطابق موجودہ وقت پاکستان کی تاریخ کا سب سے نازک دور ہے، جہاں ایک طرف معاشی دباؤ ہے، دوسری طرف اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہو چکی ہے۔ اگر فوری طور پر ڈائیلاگ کا عمل شروع نہ ہوا تو ملک سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ بیرسٹر گوہر کا آج کا بیان دراصل ایک طرف تو تناؤ کم کرنے کی کوشش ہے، دوسری طرف پی ٹی آئی کی طرف سے یہ پیغام بھی ہے کہ وہ دباؤ میں آنے کے بجائے اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔
