اے پی ایس حملے کو گیارہ سال بیت گئے، اس حملے کا ماسٹر مائنڈ احسان اللہ احسان پاکستان کی جیلوں سے بھاگ گیا تھا

 اے پی ایس حملے کو گیارہ سال بیت گئے، اس حملے کا ماسٹر مائنڈ احسان اللہ احسان پاکستان کی جیلوں سے بھاگ گیا تھا

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/12/pakistan-news-53_0433312676.html


آج 16 دسمبر 2025 کو پاکستان بھر میں پشاور کے آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) پر دہشت گرد حملے کی گیارہویں برسی انتہائی سوگوار اور غمگین انداز میں منائی جا رہی ہے۔ یہ خونریز سانحہ 16 دسمبر 2014 کو پیش آیا تھا، جب تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک سات مسلح دہشت گردوں نے سکول پر دھاوا بول کر اندھا دھند فائرنگ کی اور 147 افراد کو شہید کر دیا، جن میں 134 معصوم بچے، اساتذہ اور عملہ شامل تھا۔ 


یہ حملہ نہ صرف ایک تعلیمی ادارے پر بلکہ پورے ملک کے مستقبل، تعلیم اور انسانیت پر حملہ تھا، جس نے لاکھوں خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ گیارہ سال گزر جانے کے باوجود یہ زخم تازہ ہے، اور آج پشاور سمیت ملک بھر میں شہدا کی یاد میں قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔ اے پی ایس پشاور میں مرکزی تقریب منعقد ہوئی، جہاں شہدا کے لواحقین، فوجی افسران، طلبہ اور عوام نے شرکت کی اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم ان معصوم جانوں کو یاد کرتے ہیں جو 2014 کے اس وحشیانہ حملے میں چھین لی گئیں۔ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا عزم رکھتا ہے اور دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں، فنانسرز اور حامیوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ریاستی دشمنوں یا بچوں کو نشانہ بنانے والوں سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستانی عوام اور مسلح افواج دہشت گردوں کو کسی بھی سیاسی، نظریاتی یا جھوٹے مذہبی پردے میں چھپنے نہیں دیں گی۔


 وزیراعظم شہباز شریف نے بھی شہدا کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ایس کے معصوم فرشتوں اور ان کے اساتذہ کی قربانیاں قومی ضمیر میں زندہ ہیں۔ یہ قربانیاں ہمیں دہشت گردی کے خلاف متحد رہنے اور اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی یاد دلاتی ہیں۔ قوم شہدا کے لواحقین کے صبر کو سلام پیش کرتی ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ شہدا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔اس سانحے نے پاکستان کی تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ اس کے بعد نیشنل ایکشن پلان تیار ہوا، فوجی عدالتیں قائم کی گئیں اور دہشت گردی کے خلاف ملک گیر فوجی آپریشنز کا سلسلہ شروع ہوا، جنہوں نے دہشت گردی کو کافی حد تک قابو میں کیا۔ یہ واقعہ دنیا کے بدترین سکولی دہشت گرد حملوں میں شمار ہوتا ہے اور تعلیم کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔


اس حملے کا ماسٹر مائنڈ اور ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان، جس نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، 2017 میں سیکورٹی اداروں کے حوالے ہوا مگر 2018 میں حراست سے فرار ہو گیا۔ اس فرار نے شہدا کے خاندانوں کے زخموں کو مزید تازہ کر دیا اور انصاف کی آوازیں بلند کر دیں۔ آج بھی لواحقین مکمل انصاف کے منتظر ہیں۔ یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی جاری ہے اور امن کے دشمنوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ قوم شہدا کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے اور عہد کرتی ہے کہ ان کی یاد کو زندہ رکھتے ہوئے ایک پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ شہدا کو جنت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔


Previous Post Next Post

Contact Form