برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کا عمران خان پر آرٹیکل شائع، عمران خان پر جیل میں ہونے والی سختوں کا تذکرہ

 برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کا عمران خان پر آرٹیکل شائع، عمران خان پر جیل میں ہونے والی سختوں کا تذکرہ

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/12/pakistan-news-54.html


برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے گزشتہ روز عمران خان پر شائع  ہونے والے آرٹیکل میں لکھا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور کرکٹ کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی عمران خان جس سیل میں قید تنہائی کی زندگی گزار رہے ہے وہ سیل کسی ڈیتھ سیل سے کم نہیں ہے، 73 سالہ خان راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جہاں وہ دن کے زیادہ تر اوقات تنہا قید میں گزار رہے ہیں۔ ان کا سیل چھوٹا ہے جو ہوا اور قدرتی روشنی سے محروم ہے اور انتہائی درجہ حرارت والی جیل ہے، جس سے خان کی صحت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔


 اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ بھی ان حالات کو غیر انسانی اور ممکنہ طور پر نفسیاتی تشدد قرار دیتی ہے، جہاں خاندانی ملاقاتوں پر پابندی اور مسلسل نگرانی کا ذکر ہے۔خان پر درجنوں مقدمات چل رہے ہیں، جن میں سے کچھ سیاسی انتقام کا نتیجہ بتائے جاتے ہیں۔ جب ایک کیس میں ریلیف ملتا ہے تو نئے الزامات لگا دیے جاتے ہیں، جس سے رہائی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ ان کے بیٹے قاسم اور سلیمان، جو سابقہ بیوی جیمیائما گولڈ اسمتھ سے ہیں، اپنے والد کی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جیل کے پانی اور سہولیات ناقص ہیں، اور کئی قیدی بیماریوں سے فوت بھی ہو چکے ہیں۔ 


بیٹوں کا کہنا ہے کہ باپ کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر وہ اب بھی ثابت قدم ہیں۔ وہ عالمی برادری سے اپیل کر رہے ہیں کہ خاموشی نہ اختیار کی جائے، خاص طور پر کرکٹ کی دنیا سے، جہاں خان 1992 کے ورلڈ کپ کے ہیرو اور آئی سی سی ہال آف فیم کے رکن ہیں۔ تاہم، انگلینڈ، آسٹریلیا اور آئی سی سی کی طرف سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔آرٹیکل میں خان کی ماضی کی شہرت کا بھی ذکر ہے، جہاں وہ نہ صرف کرکٹ کے بہترین آل راؤنڈر تھے بلکہ ذاتی زندگی میں بھی رنگین شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے بیٹے مانتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں جیل جانا عام ہے، مگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے والد جلاوطنی یا نظر بندی جیسے سودے قبول نہیں کریں گے کیونکہ ان کا مقصد ملک کی اصلاح ہے۔ 


دونوں نوجوان خود بھی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ عمر کی اس مرحلے پر وہ اپنے باپ سے دوبارہ مل بھی پائیں گے یا نہیں۔ یہ صورتحال ایک فرد کی ذاتی جدوجہد سے آگے بڑھ کر پاکستان میں سیاسی مخالفین کے ساتھ سلوک کی عکاسی کرتی ہے۔


Previous Post Next Post

Contact Form