انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر جو ظلم و ستم کیا گیا اس کی شدید مذمت
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر 16 اور 17 دسمبر 2025 کو ایک پرامن احتجاجی دھرنے کے دوران پولیس کی جانب سے ہائی پریشر واٹر کینن کا بار بار استعمال انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار پایا ہے۔ یہ احتجاج پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں کی قیادت میں شروع ہوا، جو جیل حکام کی جانب سے عمران خان سے اہل خانہ کی ملاقات کی مسلسل انکار پر احتجاج کر رہے تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود کہ عمران خان کو ہفتے میں دو بار اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جیل انتظامیہ نے متعدد بار ملاقات روک دی، جس پر عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان نیازی سمیت پارٹی رہنما اور کارکن فیکٹری ناکے پر دھرنا دینے پر مجبور ہوئے۔
سرد موسم میں کھلے آسمان تلے بیٹھے یہ پرامن مظاہرین صرف اپنے آئینی حق یعنی پرامن اجتماع اور احتجاج کا استعمال کر رہے تھے، مگر پولیس نے رات کے وقت واٹر کینن کا استعمال کر کے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 17 دسمبر کو اس واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر پرامن مظاہرین کے خلاف حکام کی جانب سے ہائی پریشر واٹر کینن کا بار بار استعمال پرامن اجتماع کے حق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے مزید کہا کہ پاکستانی حکام کو لوگوں کے پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرنا چاہیے اور طاقت کے غیر متناسب اور سزا دینے والے طریقوں کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ یہ واٹر کینن کیمیکل ملا ٹھنڈا پانی استعمال کر رہے تھے، جو دسمبر کی شدید سردی میں مظاہرین کے لیے خاص طور پر تشدد آمیز تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق، واٹر کینن کی زد میں بزرگ مذہبی رہنما علامہ راجہ ناصر عباس بھی آئے، جن کا پگڑی تک اتر گیا، جس پر انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے بھی شدید مذمت کی۔ پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا اور متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا، جبکہ مظاہرین کی جانب سے کچھ مقامات پر پتھراؤ کی بھی اطلاعات ہیں، مگر مجموعی طور پر احتجاج پرامن تھا۔یہ واقعہ پاکستان میں جاری سیاسی تناؤ کا حصہ ہے، جہاں عمران خان کو متعدد مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جو ذہنی تشدد کے مترادف ہے، اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ پارٹی نے اسے فاشزم اور پولیس بربریت قرار دیا۔ دوسری جانب حکام کا موقف ہے کہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے ملاقاتیں محدود کی گئیں۔
اس احتجاج نے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کی ہے، کیونکہ پرامن احتجاج پر طاقت کا استعمال بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیاروں کی خلاف ورزی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی یہ مذمت پاکستان میں آزادی اظہار اور اجتماع کے حق کی حفاظت کی یاد دہانی ہے۔اس واقعے کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت 400 افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ علیمہ خان نے اعلان کیا کہ اگر ملاقات کی اجازت نہ ملی تو آئندہ بھی احتجاج جاری رہے گا۔ یہ سانحہ پاکستان کے جمہوری اور انسانی حقوق کے منظر نامے پر ایک تاریک باب ہے، جو حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے ساتھ نرمی برتیں اور عدالتی احکامات پر عمل کریں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل کہہ رہی ہیں کہ طاقت کا غیر ضروری استعمال نہ صرف آئینی حقوق کی پامالی ہے بلکہ معاشرے میں خوف اور عدم استحکام پیدا کرتا ہے۔
