تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام منعقد دو روزہ قومی مشاورتی کانفرنس اختتام پذیر، مضبوط اعلامیہ جاری

 تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام منعقد دو روزہ قومی مشاورتی کانفرنس اختتام پذیر، مضبوط اعلامیہ جاری




اسلام آباد میں 20 اور 21 دسمبر 2025 کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی دو روزہ قومی مشاورتی کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی، جس میں ملک بھر سے اپوزیشن سیاسی جماعتوں، وکلا، صحافیوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف طبقات فکر کی بھرپور شرکت ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف ، مجلس وحدت مسلمین، بلوچستان نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتوں کے رہنماوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔


 یہ کانفرنس ملک کی موجودہ سیاسی، آئینی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کے لیے بلائی گئی تھی، جس میں شرکا نے جمہوریت کی بحالی، آئین کی بالادستی اور عوامی مسائل کے حل پر زور دیا۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک تفصیلی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جو اپوزیشن کی مشترکہ مزاحمت کی عکاسی کرتا ہے۔اعلامیے میں سب سے اہم مطالبہ شفاف انتخابات کا ہے۔ شرکا نے کہا کہ جمہوریت کی عمارت شفاف انتقال اقتدار یعنی صاف و شفاف انتخابات پر کھڑی ہے۔ موجودہ نظام کو ناجائز زمین پر بنی عمارت قرار دیتے ہوئے نئے غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر کی فوری تقرری اور نئے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا گیا۔ ساتھ ہی، 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ بدترین دھاندلی کی آزادانہ اور غیر جانبدار تحقیقات کروا کر ذمہ داران کو سزا دینے کی بھی مطالبہ کیا گیا۔ کانفرنس نے عدلیہ کی آزادی کی بحالی پر شدید زور دیا، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی شدید مذمت کی، اور باضمیر ججز جیسے جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ کے خلاف اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیا۔


اعلامیے میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی سمیت تمام سیاسی قیدیوں، بلوچ اسیران جیسے ماہرنگ بلوچ اور لاپتہ افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ سے ملاقاتوں پر عائد پابندی کو فوری ختم کرنے، انسانی حقوق کی پامالیوں، خواتین پر تشدد، میڈیا سنسرشپ، پیکاء قانون کی منسوخی، صحافیوں پر مقدمات اور ڈان میڈیا گروپ کے معاشی قتل کی شدید مذمت کی گئی۔ معاشی مسائل پر بات کرتے ہوئے مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور ظالمانہ ٹیکسوں میں کمی، عوام کو فوری ریلیف اور آئی ایم ایف کی پالیسیوں پر تنقید کی گئی۔


صوبائی مسائل بھی اعلامیے کا اہم حصہ تھے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی جرگے کے متفقہ لائحہ عمل پر عملدرآمد اور وفاقی بقایا جات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔ سندھ اور بلوچستان میں لا اینڈ آرڈر کی بگڑتی صورتحال، جبری گمشدگیوں اور فورتھ شیڈول کی مذمت کی گئی۔ پشتون تحفظ موومنٹ  پر پابندی ختم کرنے، افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی، 18ویں ترمیم کی پاسداری، معدنی وسائل پر صوبائی ملکیت اور طلبہ یونینز کی بحالی پر زور دیا گیا۔ آئندہ لائحہ عمل کے طور پر 8 فروری 2026 کو یوم سیاہ منانے، ملک گیر پہیہ جام ہڑتال اور شٹر ڈاؤن کا اعلان کیا گیا، جبکہ مرکزی اور صوبائی کمیٹیاں تشکیل دے کر پرامن جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ یہ اعلامیہ اپوزیشن کی متحدہ آواز ہے جو آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کی حفاظت کے لیے مزاحمت کا پیغام دیتا ہے۔
Previous Post Next Post

Contact Form