وزیر اعلی خیبرپختونخواہ کا کوہاٹ تا خرلاچی 192 کلومیٹر نیا ریلوے ٹریک بچھانے کا اعلان

 وزیر اعلی خیبرپختونخواہ کا کوہاٹ تا خرلاچی 192 کلومیٹر نیا ریلوے ٹریک بچھانے کا اعلان

https://stsurdupoint.blogspot.com/2025/12/pakistan-news-56.html


خیبر پختونخوا میں کوہاٹ تا خرلاچی 192 کلومیٹر نیا ریلوے ٹریک بچھانے کا اہم فیصلہ ہوا ہے، جس کی لاگت تقریباً 642 ملین ڈالر ہوگی۔ یہ منصوبہ دو سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ریلوے امور سے متعلق ایک اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا، جہاں پاکستان ریلوے اور صوبائی حکومت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق ہوا۔یہ نیا ریلوے ٹریک کوہاٹ سے شروع ہو کر خرلاچی بارڈر تک جائے گا، جو افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقع ہے۔ 


اس منصوبے کا بنیادی مقصد خطے میں سفری سہولیات کو بہتر بنانا اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس میں کہا کہ ٹرین سروس سے نہ صرف عوام کو آسان اور سستا سفر میسر آئے گا بلکہ علاقائی تجارت میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ کوہاٹ خرلاچی ٹرین سروس وقت کی اہم ضرورت ہے اور صوبائی حکومت عوام کے مفاد میں محکمہ ریلوے کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ یہ منصوبہ صوبے کے پسماندہ اور قبائلی علاقوں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ خرلاچی بارڈر افغانستان کے ساتھ تجارت کا اہم راستہ ہے، اور اس  لنک سے وسطی ایشیا تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ یہ منصوبہ ازبکستان، افغانستان، پاکستان  ریلوے کوریڈور کا حصہ بھی بن سکتا ہے، جو علاقائی رابطے کو مزید مضبوط کرے گا۔ 


اس سے نہ صرف مسافر ٹرینوں بلکہ مال بردار ٹرینوں کی سہولت بھی دستیاب ہوگی، جس سے اشیاء کی نقل و حمل تیز اور کم لاگت ہوگی۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ریلوے منصوبوں کے لیے ٹائم لائنز کے ساتھ جامع پلان تیار کیا جائے اور صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں بھی ٹرین سروسز شروع کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس میں صوبے کے مختلف ریلوے ٹریکس پر جدید ٹرینیں چلانے پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ جمرود تا لنڈی کوتل 32 کلومیٹر ٹریک پر سفاری ٹرین چلانے، قدیم ریلوے اسٹیشنز کی بحالی، صفائی، تزئین و آرائش اور ٹریکس کے اطراف گرین بیلٹس کی تعمیر پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔یہ منصوبہ خیبر پختونخوا کی معاشی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ خطے میں ریلوے انفراسٹرکچر کی توسیع سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، سیاحت کو فروغ ملے گا اور سرحدی تجارت میں اضافہ ہوگا۔


 صوبائی حکومت اور پاکستان ریلوے کے درمیان اشتراک کار بڑھانے کا عزم اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ منصوبہ بروقت مکمل ہوگا۔ اجلاس میں مشیر خزانہ مزمل اسلم، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، سیکرٹری پاکستان ریلوے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام نے شرکت کی۔اس فیصلے سے صوبے کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ یہ منصوبہ نہ صرف سفری مسائل حل کرے گا بلکہ خطے کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔


Previous Post Next Post

Contact Form