سپیکر کے پی کے بابر سلیم سواتی کور کمانڈر بریفنگ فیصلے پر ڈٹ گئے

 سپیکر کے پی کے بابر سلیم سواتی کور کمانڈر بریفنگ فیصلے پر ڈٹ گئے


 

https://stsurdupoint.blogspot.com/2026/01/blog-post_14.html



خیبر پختونخوا اسمبلی نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس کی خصوصی سیکورٹی کمیٹی نے طے کیا ہے کہ پشاور کے کور کمانڈر سے صوبے کی سیکورٹی کی صورتحال پر بریفنگ لی جائے گی۔ یہ بریفنگ ان کیمرہ ہوگی، یعنی بند کمرے میں اور خفیہ طور پر۔ اسپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی نے 8 جنوری 2026 کو کور کمانڈر کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں درخواست کی گئی ہے کہ ہیڈکوارٹرز الیون کور سے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی جائے۔یہ کمیٹی ستمبر 2025 میں بنائی گئی تھی۔ اس میں 40 سے زیادہ اراکین شامل ہیں۔ ان میں وزیراعلیٰ، قائد حزب اختلاف، صوبائی وزراء، مختلف جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر اور اسمبلی کے اراکین شامل ہیں۔




 یہ ایک بڑی اور نمائندہ کمیٹی ہے جو صوبے میں امن و امان کے مسائل کو دیکھ رہی ہے۔ کمیٹی نے اب تک چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اہم افسران سے بریفنگ لی ہے۔ ان بریفنگز سے بہت سی معلومات ملی ہیں اور سفارشات تیار کی جا رہی ہیں۔اب کور کمانڈر سے بریفنگ لینے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ صوبے میں ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) میں جاری فوجی آپریشنز اور دیگر سیکورٹی اقدامات کی مکمل تصویر سامنے آ سکے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ صرف فوجی کارروائیوں سے پائیدار امن نہیں آ سکتا۔ اس کے لیے سیاسی، سماجی اور ترقیاتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ اگر صرف آپریشن کیے جائیں تو مزید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور بدامنی بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔




اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا ہے کہ آئین پاکستان اسمبلی کو یہ حق دیتا ہے کہ صوبے میں ہونے والے کسی بھی کام چاہے وہ صوبائی ہو یا وفاقی پر نظر رکھے اور نگرانی کرے۔ یہ کمیٹی پارلیمانی سطح پر اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ بریفنگ لینے کے بعد کمیٹی ایک مکمل رپورٹ بنائے گی۔ یہ رپورٹ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کو بھیجی جائے گی اور اسمبلی میں بھی پیش کی جائے گی۔صوبے میں سیکورٹی کے مسائل بہت سنگین ہیں۔ سال 2025 میں دہشت گردی کے واقعات میں بہت اضافہ ہوا۔

 خیبر پختونخوا ملک کے تقریباً 71 فیصد دہشت گردی کے واقعات کا شکار رہا۔ پولیس، فوج اور دیگر اداروں پر حملے ہوئے۔ ضم شدہ اضلاع جیسے شمالی و جنوبی وزیرستان، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، دیر اور پشاور میں صورتحال خراب رہی۔


 کمیٹی کا مقصد ہے کہ عوام کی جان و مال محفوظ ہو، پولیس کو مضبوط کیا جائے اور پائیدار امن قائم ہو۔یہ کمیٹی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر سب کو ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہیے۔ پہلے مختلف اداروں سے بریفنگ لی جا رہی ہے، پھر مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے گی۔ یہ قدم صوبے میں امن کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ اسمبلی اپنی آئینی ذمہ داری کو سنجیدگی سے نبھا رہی ہے۔ بریفنگ کا وقت اور تاریخ دونوں طرف سے مل کر طے کی جائے گی۔یہ خبر خیبر پختونخوا کے لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے کہ اسمبلی اور حکومت سیکورٹی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔

Previous Post Next Post

Contact Form