صدر ٹرمپ کا ایران کے عوام کے لیے پیغام، احتجاج جاری رکھو ہم آرہے ہیں

 صدر ٹرمپ کا ایران کے عوام کے لیے پیغام، احتجاج جاری رکھو ہم آرہے ہیں

https://stsurdupoint.blogspot.com/2026/01/blog-post.html




امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایرانی عوام کو ایک سیدھا اور طاقتور پیغام دیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایرانی محب وطن لوگو، احتجاج جاری رکھو، اپنے اداروں پر قبضہ کر لو، قاتلوں اور ظالموں کے نام یاد رکھو۔ وہ بہت بڑی قیمت ادا کریں گے۔ میں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں جب تک کہ مظاہرین کا بے معنی قتل عام بند نہیں ہو جاتا۔ مدد راستے میں ہے۔




 انہوں نے آخر میں ایم آئی جی اے بھی لکھا، جس کا مطلب ہے "میک ایران گریٹ اگین" یعنی ایران کو دوبارہ عظیم بناؤ۔یہ پیغام 13 جنوری 2026 کو سامنے آیا، جب ایران میں احتجاج بہت شدید ہو چکے تھے۔ یہ مظاہرے دسمبر 2025 کے آخر میں شروع ہوئے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ایران کی کرنسی کی قدر بہت تیزی سے گر گئی، مہنگائی بہت بڑھ گئی، اور لوگوں کی زندگی مشکل ہو گئی۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف نعرے لگانے لگے۔ جلد ہی یہ احتجاج پورے ملک میں پھیل گئے۔ لوگ نہ صرف پیسوں کی کمی کی شکایت کر رہے تھے بلکہ پورے نظام کو بدلنے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔ایرانی حکومت نے ان احتجاجات کو روکنے کے لیے بہت سخت اقدامات کیے۔




 پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں، آنسو گیس کا استعمال کیا، اور بہت سے لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ انٹرنیٹ سروسز بھی بند کر دی گئیں تاکہ لوگ ایک دوسرے سے رابطہ نہ کر سکیں اور دنیا کو خبر نہ پہنچ سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ کچھ رپورٹس میں 12 ہزار سے زیادہ لوگوں کے مرنے کی بات کی گئی ہے، جبکہ حکومت نے کم تعداد بتائی اور کہا کہ سیکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔ٹرمپ کا یہ پیغام مظاہرین کے لیے بہت حوصلہ افزا تھا۔ انہوں نے ایرانی لوگوں کو محب وطن کہا اور کہا کہ امریکہ ان کی مدد کرے گا۔




 انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی حکام سے بات چیت بند ہے جب تک تشدد نہیں رکتا۔ ٹرمپ نے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر حکومت مظاہرین کو مارتی رہی تو امریکہ مداخلت کرے گا۔ انہوں نے فوج کو تیار اور چوکسقرار دیا تھا۔ تاہم، انہوں نے فوری فوجی کارروائی کی بجائے دیگر طریقوں جیسے معاشی دباؤ پر زور دیا۔ مثال کے طور پر، انہوں نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیکس لگانے کا اعلان کیا۔




ایرانی حکومت نے ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے اسے اندرونی معاملات میں مداخلت کہا اور امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ احتجاجات کو ہوا دے رہے ہیں۔ ایران نے کہا کہ وہ جنگ کے لیے تیار ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین کو فسادی کہا اور سیکیورٹی فورسز کو سخت کارروائی کا حکم دیا۔ ایرانی حکام نے یورپی ممالک کے سفیروں کو بھی طلب کر کے احتجاج کیا۔ایرانی جلاوطن شہزادہ رضا پہلوی نے ٹرمپ کے بیان کی تعریف کی اور کہا کہ ٹرمپ پچھلے امریکی صدور سے مختلف ہیں جو مظاہرین کی حمایت کر رہے ہیں۔




 دوسری طرف، ایران میں کچھ لوگوں نے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں جیسے موت برائے آمر۔ یہ احتجاج ایران کے لیے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے بڑا اندرونی خطرہ ہے۔عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر نظر ہے۔ بہت سے ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد روکے اور انسانی حقوق کا احترام کرے۔ امریکہ کی طرف سے مزید دباؤ بڑھ رہا ہے، اور خطے میں تناؤ بہت زیادہ ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ احتجاج کہاں تک جاتے ہیں اور ٹرمپ کی مدد کس شکل میں آتی ہے۔ ایرانی عوام سخت معاشی مسائل اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان کی جدوجہد جاری ہے۔


Previous Post Next Post

Contact Form